خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 234
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۴ جلد سوم کرنا چاہئے یقینا نظارت اُس کی پابند ہے خواہ وہ غلط ہی ہو۔ہاں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کسی فیصلہ کی موجودگی میں وہ کام کو نہیں چلا سکتے تو ان کو چاہئے کہ اسے پیش کر کے وقت پر منسوخ کرالیں۔لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ ہر شوری میں کچھ نہ کچھ شور ضرور اُٹھتا ہے کہ فلاں فیصلہ پر عمل نہیں ہوا ، فلاں قانون کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔پھر ایسی باتوں پر کس طرح پردہ پڑ سکتا ہے۔اور جب ایک نقص ظاہر ہو تو میرا فرض ہے کہ میں نظارت کو اس نقص کے دور کرنے کی طرف توجہ دلاؤں۔کیونکہ میں صدرانجمن احمدیہ کا رہنما ہونے کی حیثیت میں خود بھی اس خلاف ورزی کا گو قانونی طور پر نہیں مگر اخلاقی طور پر ذمہ دار ہو جاتا ہوں۔پس میرا فرض ہے کہ غلطی پر اس کی اصلاح کی طرف توجہ دلاؤں۔غرض ناظروں کا یہ فرض ہے کہ شوریٰ کے فیصلوں کی پابندی کریں یا پھر ان کو بدلوالیں۔لیکن جب تک وہ فیصلہ قائم ہے ناظروں کا اس پر عمل کرنا ویسا ہی ضروری ہے جیسا ان کے ماتحت کلرکوں اور دوسرے کارکنوں کا ان کے احکام پر۔اگر ناظر اس طرح کریں تو بہت سے جھگڑے مٹ جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ صدر انجمن احمدیہ کا فرض ہونا چاہئے کہ ہر شوری کے معاً بعد ایک میٹنگ کر کے دیکھے کہ کونسا فیصلہ کس نظارت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اور پھر ا سے ناظر متعلقہ کے سپر د کرے کہ اس پر عمل ہوا اور وقت مقرر کر دیا جائے کہ اس کے اندر اندر اس فیصلہ کی تعمیل پوری طرح ہو جائے اور پھر اس مقررہ وقت پر دوسری میٹنگ کر کے دیکھے کہ عمل ہوا ہے یا نہیں۔اس طرح تنقید کا سلسلہ خود بخود بند ہو جائے گا۔“ ( الفضل ۲۷ را پریل ۱۹۳۸ء ) النور : ۵۶ خود رائی : خودسری ، سرکشی ( فیروز اللغات اردو جامع صفحه ۵۹۹ مطبوعہ فیروز سنز لا ہور ۲۰۱۰ء) ص: ۸۷ كنز العمال الجزء الخامس صفحه ۶۴۸ حدیث نمبر ۱۴۱۳۶ مطبوعہ دمشق ۲۰۱۲ء ه الشورى: ۳۹ ۶ تا ۵ بخاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعة للامام مالم تكن معصية صفح ۱۲۲۹، ۱۲۳۰ حدیث نمبر ۷۱۴۵ مطبوعہ ریاض ١٩٩٩ء الطبعة الثانية