خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 233

خلافة على منهاج النبوة ۲۳۳ جلد سوم اس سے اس کا حق باطل نہیں کیا جا سکتا۔اور ناظر بھی غلطی کر سکتے ہیں مگر ان کے دائرہ عمل میں ان کے ماتحتوں کا فرض ہے کہ ان کی اطاعت کریں۔ہاں جو امور شریعت کے خلاف ہوں ان میں اطاعت نہیں ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک صحابی کو ایک چھوٹے سے لشکر کا سردار بنا کر بھیجا۔راستہ میں انہوں نے کوئی بات کہی جس پر بعض صحابہ نے عمل نہ کیا ، اس پر وہ ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں پر امیر مقر ر کیا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔اور جب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قائمقام ہوں تو تم نے میری نافرمانی کیوں کی۔اس پر صحابہ نے کہا کہ ہم آپ کی اطاعت کریں گے۔انہوں نے کہا اچھا میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ اطاعت کرتے ہو یا نہیں۔چنانچہ انہوں نے آگ جلانے کا حکم دیا اور جب آگ جلنے لگی تو صحابہ سے کہا کہ اس میں کود پڑو۔بعض تو آمادہ ہو گئے مگر دوسروں نے ان کو روکا اور کہا کہ اطاعت امور شرعی میں ہے ان کو تو شریعت کی واقفیت نہیں۔اس طرح آگ میں کو دکر جان دینا نا جائز ہے اور خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ خود کشی نہیں کرنی چاہئے کے۔جب یہ امر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے اس میں ان لوگوں کی تائید کی جنہوں نے کہا تھا کہ آگ میں کودنا جائز نہیں۔پس میں جو کہتا ہوں کہ ناظر کے دائرہ عمل میں اس کی اطاعت کرنی چاہئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی ناظر کسی سے کہے کہ جھوٹ کا بولوتو اسے بولنا چاہئے۔نظارت کے شعبہ میں جھوٹ بلوانا شامل نہیں۔اسی طرح اگر کوئی ناظر کہے کہ کسی کو قتل کر دو تو اس میں اس کی اطاعت جائز نہیں۔اطاعت صرف شریعت کے محدود دائرہ میں ضروری ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ غلطی ہر شخص کر سکتا ہے۔ممکن ہے کسی فیصلہ میں ناظر بھی غلطی کرے لیکن اس دائرہ میں اس کی غلطی کو بھی ماننا پڑے گا۔پس خلیفہ کا فیصلہ مجلس شوری اور نظارت کیلئے ماننا ضروری ہے۔اسی طرح شوری کے مشورہ کو سوائے استثنائی صورتوں کے تسلیم کرنا خلیفہ وقت کیلئے ضروری ہے۔اور جس مشورہ کو خلیفہ وقت نے بھی قبول کیا اور جسے شرعی احکام کے ماتحت عام حالتوں میں خلیفہ کو بھی قبول