خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 227

خلافة على منهاج النبوة ۲۲۷ جلد سوم خاص حالات کے مشورہ کو ضرور مان لے گا۔ہاں خاص صورتوں میں بوجہ اس کے کہ در حقیقت وہ خدا تعالیٰ کا نمائندہ ہے اگر وہ سمجھے کہ اس بات کو ماننے سے دین کو یا اس کی شان وشوکت کو کوئی خاص نقصان پہنچتا ہے تو وہ اس مشورہ کو رڈ بھی کر دے گا مگر اس اختیار کے باوجود اسلامی نظام مشورہ اور رائے عامہ کو بہت بڑی تقویت دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ اتنے لوگوں کی رائے کو جو پبلک میں ظاہر ہو چکی ہو کبھی کوئی شخص خواہ وہ کتنی بڑی حیثیت کا ہو معمولی طور پر رڈ کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔وہ کثرتِ رائے کو اُسی وقت رڈ کر سکتا ہے جب وہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور اُس کی ذمہ داری کا یہی تقاضا ہے۔یہ امر ظا ہر ہے کہ یلے شخص کو یہ جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ کثرتِ رائے کو رڈ کر دے۔کثرتِ رائے کو ر ڈ یا تو پاگل کر سکتا ہے اور یا پھر وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی طاقت ہے جو اس کی بات کو منوا لے گی۔پس خلفا ء اُسی وقت ایسی رائے کو رڈ کریں گے جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی مدد کا یقین رکھیں گے اور سمجھیں گے کہ ہم صرف خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کر رہے ہیں۔اور جب وہ خدائی طاقت سے جماعت کے مشورہ کو ر ڈ کریں گے تو ان کی کامیابی یقینی ہوگی۔غرض اسلام نے شوری کے نظام سے خود سری اور خودرائی کیلئے ایک بڑی روک پیدا کر دی ہے۔پھر تربیت کے لحاظ سے بھی مشورہ ضروری ہے۔کیونکہ اگر مشورہ نہیں لیا جائے گا تو جماعت کے اہم امور کی طرف افراد جماعت کو توجہ نہیں ہوگی۔اس لئے بعد میں آنے والا خلیفہ بوجہ نا تجربہ کاری اور حالات سلسلہ سے ناواقفیت کے بالکل بدھو ہوگا۔یہ کسی کو کیا علم ہے کہ کون پہلے مرے گا اور کون بعد میں اور کس کے بعد کس نے خلیفہ ہونا ہے۔اس لئے یہ حکم شریعت نے دے دیا ہے کہ مشورہ ضرور لوتا جماعت کی تربیت ہوتی رہے اور جو بھی خلیفہ ہو وہ سیکھا سکھایا ہو اور نئے سرے سے اُس کو نہ سیکھنا پڑے۔اس میں اور بھی بیسیوں حکمتیں ہیں مگر میں اس وقت انہیں نہیں بیان کر رہا۔مختصر یہ ہے کہ شوری خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص حکمت کے ماتحت ہے۔قرآن کریم میں ہے کہ د آمر مهم شوری بَيْنَهُمْ ۵ گویا مشوره والی انجمن کو قرآنی تائید حاصل ہے اور اس کا ذکر قرآن کریم میں کر کے اسے اہم قرار دے دیا ہے۔گو قر آن کریم میں کارکنوں کا بھی ذکر ہے مگر شوری کو ایک فضیلت دی گئی ہے اور