خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 201
خلافة على منهاج النبوة ۲۰۱ جلد سوم سے اگلی آیتوں میں ملتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ اِس سوال کا جواب دیتا ہے کہ یہ نور کہاں ہے۔فرماتا ہے في بيوت یہ نور خلافت چند گھروں میں پایا جاتا ہے۔نور نبوت تو صرف ایک گھر میں ہے مگر نورِ خلافت ایک گھر میں نہیں بلکہ في بيوت چند گھروں میں ہے۔پھر فرماتا ہے اذن الله ان ترفة وہ گھر ابھی چھوٹے سمجھتے جاتے ہیں مگر خدا نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ ان گھروں کو اونچا کرے۔کیونکہ نبوت کے بعد خلافت اس خاندان کو بھی اونچا کر دیتی ہے جس میں سے کو ئی شخص منصب خلافت حاصل کرتا ہے۔اس آیت نے یہ بتا دیا کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ کا مقصد نورِ خلافت کو بیان کرنا ہے اور یہ بتا نا ہے کہ نورِ خلافت، نور نبوت اور نور الوہیت کے ساتھ گلی طور پر وابستہ ہے اور اس کو مٹانا دوسرے دونوں نو روں کو مٹانا ہے۔پس ہم اسے مٹنے نہ دیں گے اور اس نور کو ہم کئی گھروں کے ذریعہ ظاہر کریں گے تا نور نبوت کا زمانہ اور اس کے ذریعہ سے نور الہیہ کے ظہور کا زمانہ لمبا ہو جائے۔چنانچہ خلافت پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئی۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئی۔پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئی اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئی۔کیونکہ خدا نے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ ان بیوت کو اونچا کرے۔ترفع کے لفظ نے یہ بھی بتا دیا کہ الزام لگانے والوں کی اصل غرض یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو نیچا کریں اور انہیں لوگوں کی نگاہ میں ذلیل کریں۔مگر خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ ان کو اونچا کرے اور جب خدا انہیں عزت دینا چاہتا ہے تو پھر کسی کے الزام لگانے سے کیا بنتا ہے۔اب دیکھو سورۃ نور کے شروع سے لے کر اس کے آخر تک کس طرح ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے پہلے اس الزام کا ذکر کیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا اور چونکہ حضرت عائشہ پر الزام لگانے کی اصل غرض یہ تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ذلیل کیا جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے جو تعلقات ہیں وہ بگڑ جائیں اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی نگاہ میں بھی ان کی عزت کم ہو جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ خلیفہ نہ ہو سکیں۔کیونکہ عبد اللہ بن ابی بن سلول یہ بھانپ گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی نگاہ اگر کسی پر اٹھنی ہے تو وہ ابو بکر ہی ہے