خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 200
خلافة على منهاج النبوة ۲۰۰ جلد سوم تم یہ خیال نہ کرو کہ یہ الزام کوئی بُرا نتیجہ پیدا کرے گا بلکہ یہ الزام بھی تمہاری بہتری اور ترقی کا موجب ہو جائے گا چنانچہ لو اب ہم خلافت کے متعلق اصول بھی بیان کر دیتے ہیں اور تم کو یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ یہ منافق زور مار کر دیکھ لیں یہ ناکام رہیں گے اور ہم خلافت کو قائم کر کے چھوڑیں گے۔کیونکہ خلافت، نبوت کا ایک جزو ہے اور الہی نور کے محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔پھر فرماتا ہے لِكُلِّ امْرِئُ مِّنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الاثم - ٢٦ ان الزام لگانے والوں میں سے جیسی جیسی کسی نے کمائی کی ہے ویسا ہی عذاب اسے مل جائے گا۔چنانچہ جو لوگ الزام لگانے کی سازش میں شامل تھے انہیں اسی اسی کوڑے لگائے گئے۔پھر فرمايا و الذي تولى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِیم ۲۷ مگر ان میں سے ایک شخص جو سب سے بڑا شرارتی ہے اور جو اس تمام فتنہ کا بانی ہے اسے ہم کوڑے نہیں لگوائیں گے بلکہ اس کو عذاب ہم خود دیں گے۔والذي تولى كبره وہ شخص جس نے اصل میں بات بنائی ہے ( یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول ) وہ عام عذاب کا مستحق نہیں خاص اور بڑے عذاب کا مستحق ہے جو عذاب ہم ہی دے سکتے ہیں۔چنانچہ اس حکم کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے عذاب مل گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی وہ ہلاک ہو گیا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے بعد خلیفہ ہو گئے۔اس الزام کا ذکر کرنے اور عبد اللہ بن ابی ابن سلول کی اس شرارت کو بیان کرنے کے بعد کہ اس نے خلافت میں رخنہ اندازی کرنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا ، اللہ تعالیٰ معافرماتا ہے الله نُورُ السّمواتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُور كَمشكوة فِيهَا مِصْبَاح ، المِصْبَاحُ في زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ کہ اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کا نور ہے مگر اُس کے نور کو مکمل کرنے کا ذریعہ نبوت اور اس کے بعد اس کے دنیا میں پھیلانے اور اسے زیادہ سے زیادہ عرصہ تک قائم رکھنے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو وہ خلافت ہی ہے۔پس ان منافقوں کی تدبیروں کی وجہ سے ہم اس عظیم الشان ذریعہ کو تباہ نہیں ہونے دیں گے بلکہ اپنے نور کے دنیا میں دیر تک قائم رکھنے کیلئے اس سامان کو مہیا کریں گے۔اس بات کا مزید ثبوت کہ اس آیت میں جس نور کا ذکر ہے وہ نورِ خلافت ہی ہے اس