خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 193
خلافة على منهاج النبوة ۱۹۳ جلد سوم ہے اب میں پھر اصلی مضمون کی طرف لوٹتا ہوں جو یہ ہے کہ جو شخص قرآن کریم کو ایک حکیم کی کتاب سمجھتا ہے اور اس کے اعلیٰ درجہ کے با ربط اور ہم رشتہ مضمونوں کے کمالات کے دیکھنے کا جسے ذرا بھی موقع ملا ہے وہ اس موقع پر سخت حیران ہوتا ہے کہ کس طرح پہلے بدکاری اور بدکاری کے جھوٹے الزامات لگانے کا ذکر کیا گیا پھر یکدم الله نور السموات والارض کہہ دیا گیا اور پھر خلافت کا ذکر شروع کر دیا گیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں مضمونوں میں ضرور کوئی اعلیٰ درجہ کا جوڑ اور تعلق ہے۔اور یہ تینوں مضمون آپس میں مربوط اور ہم رشتہ ہیں۔اس شکل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مضمون پر غور کرو جو میں نے اوپر بتایا ہے اور جو یہ ہے کہ الله نور السموات والارض کی آیت میں الوہیت اور نبوت اور خلافت کے تعلق کو بتایا گیا ہے۔اس مضمون کو ذہن میں رکھ کر آخری دو مضمونوں کا تعلق پالکل واضح ہو جاتا ہے۔کیونکہ اللہ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ والی آیت میں خلافت کا اصولی ذکر تھا اور بتایا گیا تھا کہ خلافت کا وجود بھی نبوت کی طرح ضروری ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے جلالِ الہی کے ظہور کے زمانہ کو ممتد کیا جاتا ہے اور الہی نور کو ایک لمبے عرصہ تک دنیا کے فائدہ کیلئے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔اس مضمون کے معلوم ہونے پر طبعا قرآن کریم پڑھنے والوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہونا تھا کہ خدا کرے ایسی نعمت ہم کو بھی ملے۔سو وعد الله الّذینَ آمَنُوا مِنْكُمُ کی آیات میں اس خواہش کے پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما دیا اور بتایا کہ یہ نعمت تم کو بھی اسی طرح ملے گی جس طرح پہلے انبیاء کی جماعتوں کو ملی تھی۔غرض میرے بیان کردہ معنوں کے رو سے اللهُ نُورُ السّمواتِ وَالْأَرْضِ کی آیت اور اس کی متعلقہ آیتوں کا وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهیم کی آیت اور اس کی متعلقہ آیتوں سے ایک ایسا لطیف اور طبعی جوڑ قائم ہو جاتا ہے جو دل کو لذت اور سرور سے بھر دیتا ہے اور ایمان کی زیادتی کا موجب ہوتا ہے اور قرآنی مطالب کی عظمت کا سکہ دلوں میں بٹھا دیتا ہے۔لیکن یہ سوال پھر بھی قائم رہتا ہے کہ اس مضمون کا پہلی آیتوں سے کیا تعلق ہوا۔