خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 180

خلافة على منهاج النبوة ۱۸۰ جلد سوم ہو سکتے ہیں۔مگر جب حالات یہ نہ ہوں بلکہ جونہی ہم کسی کے دروازہ پر پہنچیں گھر کا مالک ر سے باہر نکل آئے اور ہمیں کہے کہ آپ مسافر ہیں، تھکے ماندے آئے ہیں ، تھوڑی دیر میرے پاس آرام کیجئے تو اس شخص کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ہم ”ہونا چاہئے“ کی حد سے نکل کر ” ہے کی حد میں داخل ہو جاتے ہیں۔تو نبوت اور الہام سے خدا کا وجود ہے شکل میں ظاہر ہوتا ہے لیکن باقی دلیلوں سے ہم اس کے متعلق صرف ہونا چاہئے کی حد تک پہنچتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام بھی اسی مضمون کی تائید کرتا ہے مگر یہ خیال بھی مجھے اسی وقت آیا ہے پہلے نہیں آیا۔بہر حال رؤیا سے بیداری کے بعد میں غور کرتا رہا اور سوچتا رہا کہ اس مضمون پر میں نے اور کیا کیا باتیں بیان کی تھیں مگر مجھے کوئی بات یاد نہ آئی۔لیکن اس رؤیا کا اثر میری طبیعت پر گہرا رہا اور کئی دفعہ مجھے یہ خیال آیا کہ وہ کون سی آیات تھیں جو رویا میں میں نے پڑھیں اور جن میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے مگر قرآن کریم کی کوئی آیت میرے ذہن میں نہ آئی۔اس کے دوسرے یا تیسرے دن یعنی پیر یا منگل کو مجھے اب یہ اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ کونسا دن تھا بہر حال ان میں سے کسی دن نماز ظہر یا عصر ( یہ بھی مجھے صحیح طور پر یاد نہیں ) میں پڑھا رہا تھا اور اُس وقت مجھے خواب کا خیال بھی نہیں تھا۔گویا اُس وقت وہ میرے ذہن سے بالکل اُتری ہوئی تھی کہ جب میں نے رکوع کے بعد قیام کیا اور پھر سجدہ میں جانے کیلئے اللہ اکبر کہا تو جس وقت اوپر سے نیچے سجدہ کی طرف جانے لگا تو معا القاء کے طور پر میرے دل پر ایک آیت نازل ہوئی اور مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ آیت ہے جو اس مضمون کی حامل ہے جو خواب میں بتایا گیا ہے۔اور پھر بجلی کی طرح اس طرح وہ وسیع مضمون میرے سامنے آگیا کہ اس کی وجہ سے نہ صرف وہ آیت بلکہ سورۃ کی سورۃ ہی حل ہو گئی۔اور اس کی ترتیب جو میں پہلے سمجھتا تھا اس کے علاوہ ایک ایسی ترتیب مجھ پر کھول دی گئی کہ مجھے یوں معلوم ہونے لگا کہ اس سورۃ میں ہر آیت اس طرح پروئی ہوئی ہے جس طرح ہار کے موتی پروئے ہوئے ہوتے ہیں اور کوئی آیت اس سورۃ میں ایسی نہ رہی جس کے متعلق یہ شبہ ہو سکے کہ اس کا پہلی آیتوں یا بعد کی آیتوں سے کیا تعلق ہے۔وہ سورۃ جس کی طرف میرا ذہن منتقل کیا گیا سورہ نور ہے اور وہ