خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 174
خلافة على منهاج النبوة ۱۷۴ جلد سوم اور اگر دکھاتا ہے تو نہایت دُھندلی سی۔جیسے مثلاً ( یہ مثال میں نے رویا میں نہیں دی۔صرف سمجھانے کیلئے بیان کر رہا ہوں ) دروازوں میں وہی شیشے لگے ہوئے ہوتے ہیں ، کھڑکیوں میں بھی وہی شیشے لگے ہوئے ہوتے ہیں جو آئینوں میں ہوتے ہیں مگر ان میں سے شکل نظر نہیں آسکتی کیونکہ ان کے پیچھے قلعی نہیں لگی ہوتی۔اسی طرح جن شیشوں کے چوکٹھے اُتر جاتے ہیں رویا میں ہی میں کہتا ہوں کہ ان شیشوں کا محفوظ رکھنا مشکل ہوتا ہے اور وہ ٹوٹ جاتے ہیں۔تو آئینہ اپنے اندرونی جو ہر ظاہر کرنے کیلئے ایک ایسی چیز کے آگے کھڑا ہوتا ہے جو اپنی ذات میں تو چہرہ دکھانے والی نہیں مگر جب وہ آئینہ سے مل جاتی ہے تو آئینہ میں شکل نظر آنے لگ جاتی ہے اور وہ قلعی ہے۔اسی طرح اس کا چوکٹھا اسے محفوظ رکھتا ہے۔تو میں رویا میں یہ مثال دے کر کہتا ہوں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کی مثال ایک آئینہ کی سی ہے اور انسان کی پیدائش کا اصل مقصد اسی کو حاصل کرنا ہے۔وہی ہے جو ہمیں علم دیتا ہے ، وہی ہے جو ہمیں عرفان دیتا ہے، وہی ہے جو ہمیں عیب سے آگا ہی بخشتا ہے، وہی ہے جو ہمیں ثواب کی باتوں کا علم دیتا ہے لیکن وہ اپنی قدیم سنت کے مطابق اُس وقت تک دنیا کو عیب اور صواب سے آگا ہی نہیں بخشتا جب تک اُس کے پیچھے قلعی نہیں کھڑی ہو جاتی جو نبوت کی قلعی ہے۔یعنی وہ ہمیشہ اپنے وجود کو نبیوں کے ہاتھ سے پیش کرواتا ہے۔جب نبی اپنے ہاتھ میں لے کر خدا تعالیٰ کے وجود کو پیش کرتا ہے تبھی دنیا اُس کو دیکھ سکتی ہے ورنہ نبوت کے بغیر خدا تعالیٰ کی ہستی اتنی مخفی اور اتنی وراء الورا ہوتی ہے کہ انسان صحیح اور یقینی طور پر اس کا اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ آسمانوں میں بھی ہے ، اللہ تعالیٰ زمینوں میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ دریاؤں میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ پہاڑوں میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ سمندروں میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ خشکیوں میں بھی ہے۔غرض ہر ایک ذرہ ذرہ سے اس کا جلال ظاہر ہو رہا ہے مگر باوجود اس کے کہ دنیا کے ذرہ ذرہ میں اس کا جلال پایا جاتا ہے بغیر انبیاء کے دنیا نے کب اس کو دیکھا۔انبیاء ہی ہیں جو خدا تعالیٰ کا وجود دنیا پر ظاہر کرتے ہیں۔لیکن انبیاء خدا تعالیٰ کو بناتے تو نہیں ، وہ تو ازل سے موجود ہے پھر وجہ کیا ہے کہ انبیاء کے آنے پر دنیا خدا تعالیٰ کو دیکھنے لگ جاتی ہے اور پہلے نہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جس طرح آئینہ کے پیچھے