خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 167
خلافة على منهاج النبوة 172 جلد سوم قادیان کے اکثر لوگوں نے بیعت کر لی تھی لیکن باہر کی بہت سی جماعتیں مترڈ تھیں۔بڑے بڑے کا رکن سب مخالف تھے ، خزانہ خالی تھا اور مخالفت کا دریا تھا جو اُمڈا ہوا چلا آ رہا تھا۔کیا کوئی کہ سکتا ہے کہ اُس وقت میں اس کی نصرت سے کامیاب ہوا۔اُس وقت خدا ہی تھا جو میری تائید کیلئے آیا اور اسی نے دوسرے دن مجھ سے وہ ٹریکٹ نکلوایا کہ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اور جہاں جہاں یہ ٹریکٹ پہنچا جس طرح حسنین کی لڑائی کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ آواز بلند کرائی گئی کہ اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے اور صحابہ بیتاب ہو کر اُس آواز کی طرف بھاگے بلکہ جن کے گھوڑے نہیں مڑتے تھے انہوں نے اُن کی گردنیں کاٹ دیں اور پیدل دوڑے ہے اسی طرح جب میری آواز باہر پہنچی مترڈ د جماعتوں کے دل صاف ہو گئے اور تاروں اور خطوں کے ذریعہ بیعت کرنے لگیں۔وہی خدا جو اُس وقت فوجوں کے ساتھ تائید کرنے آیا آج میری مدد پر ہے اور اگر آج تم خلافت کی اطاعت کے نکتہ کو سمجھ لو تو تمہاری مدد کو بھی آئے گا۔نصرت ہمیشہ اطاعت سے ملتی ہے۔جب تک خلافت قائم رہے نظامی اطاعت پر اور جب خلافت مٹ جائے انفرادی اطاعت پر ایمان کی بنیاد ہوتی ہے۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ تم کتنے عقلمند اور مد بر ہو، اپنی تدابیر اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔جب تک تمہاری عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت نہ ہوں اور تم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو ہرگز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کر سکتے۔پس اگر تم خدا تعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ اس کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اٹھنا بیٹھنا ، کھڑا ہونا اور چلنا ، تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت ہو۔بیشک میں نبی نہیں ہوں لیکن میں نبوت کے قدموں پر اور اس جگہ پر کھڑا ہوں۔ہر وہ شخص جو میری اطاعت سے باہر ہوتا ہے وہ یقیناً نبی کی اطاعت سے باہر جاتا ہے۔جو میرا جوا اپنی گردن سے اُتارتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جواً اُتارتا ہے۔اور جو اِن کا جواُ اُتارتا ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اُ اُتارتا ہے۔اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جواُ اُتارتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا جواً اُتارتا ہے۔میں بے شک انسان ہوں خدا نہیں