خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 166
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم پوچھا کہ یہ بات ٹھیک ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ٹھیک تو ہے مگر انہوں نے منع بھی نہیں کیا۔اس پر حضرت خلیفہ اول جوش میں آگئے اور فرمایا کہ تم لوگ مجھے اس پر ناراض کرنے کی کوشش کرتے ہو!۔یہ بڑی عمر کا تھا یا تم ! اس نے کہ دیا کہ اطاعت کرو اور کیا کرتا تم لوگوں کے ہاتھ پکڑ لیتا !! غرض حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کو مجھ سے بدظن کرنے کی جو تذا بیر بھی ممکن تھیں یہ لوگ انہیں اختیار کرتے رہتے تھے مگر خدا کی مشیت نے پورا ہوکر رہنا تھا۔انسانوں نے سارا زور لگایا اور خلافت کے جتنے دروازے ان کے نزدیک تھے وہ مجھ پر بند کرنے کی کوشش کرتے رہے۔حالانکہ میرے تو ذہن میں بھی کبھی خلافت کا خیال نہ آیا تھا بلکہ اگر کوئی کبھی مجھ سے اس کے متعلق کوئی ذکر بھی کرتا تو میں اسے روک دیتا اور کہتا کہ یہ جائز نہیں۔ابھی حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے ایک حلفی بیان شائع کرایا ہے جس میں لکھا ہے کہ ” حضرت خلیفہ اول بیمار تھے اور مجھے گوجرانوالہ ایک مباحثہ پر جانے کا حکم ہوا۔مولوی محمد علی صاحب مجھے ملے تو کہنے لگے حافظ صاحب ! آپ سفر پر جاتے ہیں اور مولوی صاحب بیمار ہیں۔خلیفہ بنانے میں جلدی نہ کرنا۔میں نے یہ بات حضرت مرزا محمود احمد صاحب کے سامنے پیش کی کہ آپ کا کیا خیال ہے؟ تو آپ نے فرمایا حافظ صاحب ! اگر مولوی محمد علی صاحب کو اللہ تعالیٰ خلیفہ بنادے تو میں اپنے تمام متعلقین کے ساتھ ان کی بیعت کرلوں گا“۔تو میں آگے آنا نہیں چاہا تھا ، میں پیچھے ہٹتا تھا مگر خدا کے ہاتھ نے مجھے پکڑا اور کہا کہ جب ہم کام لینا چاہتے ہیں تو تو پیچھے رہنے والا کون ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کر دیا۔اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم خوش نہیں ہیں مگر میں کہتا ہوں تمہاری خوشی کا سوال ہی کیا ہے۔اگر تم خوش نہیں ہو تو جاؤ اُس سے لڑو جس نے مجھے خلیفہ بنایا ہے۔اگر تم میں کچھ طاقت اور زور ہے تو اُس کے پاس جاؤ اور اس سے اُس تائید اور نصرت کو بند کرا دو جو مجھے مل رہی ہے۔مگر میں ہرایسے شخص کو بتا دیتا ہوں کہ اسے سوائے ناکامی و نامرادی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔یہ سلسلہ خدا کا سلسلہ ہے اور خدا کے سلسلوں پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔آج بے شک تم اتنے لوگ میرے ساتھ ہو مگر اُس وقت کون تھا جب خدا تعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنایا۔بے شک