خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 4

خلافة على منهاج النبوة ۴ جلد سوم جماعت سے وہ تفرقہ مٹ سکتا ہے جس کی وجہ سے اتنا فتور پڑ رہا ہے۔حضرت مولوی صاحب کی وفات کے روز مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ میاں صاحب! آپ ایثار کریں۔میں نے کہا کہ کیا خلافت کا ہونا گناہ ہے؟ تو وہ کہنے لگے نہیں جائز ہے۔میں نے کہا کہ میرے نزدیک ضروری اور واجب ہے۔اب جب وہ دونوں گروہ ایک بات پر قائم ہیں ایک کے نزدیک فعل اور عدم فعل برابر ہے اور دوسرے کے نزدیک واجب ، تو اس فریق کو جو جواز کا قائل ہے چاہیے کہ وہ اپنی ضد کو چھوڑ دے۔خدا تعالیٰ ضرور اس سے پوچھے گا کہ جب ایک فعل کا کرنا اور نہ کرنا تمہارے نزدیک برابر تھا تو تم نے کیوں اپنی ضد کو نہ چھوڑا۔پس اس فریق کو خدا کے حضور جواب دینا پڑے گا۔پھر میں بتاتا ہوں کہ اسلام نے جتنی اس زمانہ میں ترقی کی ہے جب کہ اس کے ماننے والے ایک خلیفہ کے ماتحت تھے اتنی پھر کسی زمانے میں نہیں کی۔حضرت عثمان وعلی کے زمانے کے بعد کوئی بتا سکتا ہے کہ پھر بنی عباس کے زمانہ میں بھی ترقی ہوئی۔جس وقت خلافتیں پرا گندہ ہو گئیں اُسی وقت سے ترقی رُک گئی جو لوگ خلیفہ کے متعلق مامور غیر مامور کی بحث شروع کر دیتے ہیں اپنے گھر ہی میں غور کریں کہ کیا ایک شخص کے بغیر گھر کا انتظام قائم کر ره سکتا ہے؟ یورپ کے کسی مصنف نے ایک ناول لکھا ہے جس میں اس نے ان لوگوں کا خوب خا کہ اُڑایا ہے اس کا ماحصل یہ ہے کہ دولڑکیوں نے اپنے باپ کے اس اصول کو حجت قرار دے کر کہ مرد و عورتوں کے حقوق و فرائض یکساں ہیں اور گھر کا ایک واجب الا طاعت سر براہ ہونے کی ضرورت نہیں اپنے اپنے دل پسند مشاغل میں مصروف رہ کر اور انتظام خانہ داری میں اپنی خودسری سے ابتری ڈال کر باپ کو ایسا تنگ کیا کہ اُسی کو معافی مانگنی پڑی۔الغرض ایک مرکز اور ایک امام کے بغیر کبھی کام نہیں ہو سکتا۔جنگ میں بھی ایک آفیسر کے ماتحت فرمانبرداری کرنی پڑتی ہے اور اگر کوئی ذرا نا فرمانی کرے تو فوراً گولی سے اُڑا دیا جاتا ہے۔بعض وقت آفیسر غلطی سے حکم دے دیتے ہیں تو بھی فوجی کو ماننا پڑتا ہے۔اسلامی شریعت نے مسلمانون کو بتایا کہ اگر امام بھول جائے اور بجائے دو رکعت کے