خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 158

خلافة على منهاج النبوة ۱۵۸ جلد سوم ہے کہ سستیوں کو دور کر کے لوگوں کے اندر اخلاص، تقویٰ اور اُمنگ پیدا کرے۔لیکن اگر کچھ آدمی ایسے ہوں کہ جتنی اُمنگیں اور امیدیں اور جوش خلیفہ پیدا کرے اس کا ایک حصہ وہ ضائع کر دیں تو ایسے لوگ بجائے اسلام کی ترقی کا موجب ہونے کے اس کے تنزل کا موجب ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دیکھ لوصلح حدیبیہ کی مثال بالکل واضح ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رویا میں دیکھا کہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں۔چونکہ وہ حج کا وقت نہیں تھا آپ نے عمرہ کی نیت کی اور صحابہ کو بھی اطلاع دی۔چلتے چلتے آپ کی اونٹنی حدیبیہ کے مقام پر بیٹھ گئی اور زور لگانے کے باوجود نہ اُٹھی۔آپ نے فرمایا کہ اسے خدا تعالیٰ نے بٹھا دیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس کی مشیت یہی ہے کہ ہم آگے نہ جائیں گے۔مسلمانوں کی آمد دیکھ کر کفار نے بھی اپنا لشکر جمع کرنا شروع کیا کیونکہ وہ یہ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ مسلمان طواف کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آدمیوں کی انتظار میں تھے کہ آئیں تو شائد کوئی سمجھوتہ ہو جائے۔ان کی طرف سے مختلف نمائندے آئے اور آخر کا ر صلح کا فیصلہ ہوا۔شرائط صلح میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ مسلمان اس وقت واپس چلے جائیں۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر اب انہوں نے طواف کر لیا تو ہمارے پر سٹیج (PRESTIGE) میں فرق آئے گا اس لئے انہوں نے یہی شرط پیش کی کہ اب کے واپس چلے جائیں اور اگلے سال آکر طواف کرلیں۔دوسری شرط یہ ہوئی کہ اگر کوئی کا فر مسلمان ہوکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جائے تو آپ اسے واپس کر دیں گے لیکن اگر کوئی مسلمان مرتد ہو کر مکہ والوں کے پاس جانا چاہے تو اسے اس کی اجازت ہو گی۔بظاہر یہ شرطیں بڑی کمزور شرطیں تھیں اور پھر جس وقت آپ نے اس شرط کو منظور کر لیا اُسی وقت ایک مسلمان جس کے ہاتھوں اور پاؤں میں کڑیاں اور بیڑیاں پڑی تھیں، جس کا تمام جسم لہولہان تھا نہایت تکلیف سے لڑھکتا اور گر تا پڑتا وہاں پہنچا اور عرض کیا يَا رَسُولَ اللهِ ! میرا حال دیکھئے میں مسلمان ہوں اور میرے رشتہ داروں نے اس طرح مجھے بیڑیاں پہنائی ہوئی ہیں اور مجھے شدید تکالیف پہنچا رہے ہیں۔آج کفار لڑائی کیلئے تیار ہوئے تو میرا پہرہ ذرا کمزور ہوا اور میں موقع پا کر نکل بھاگا