خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 157
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۷ جلد سوم ور نہ احکام تو انبیاء پر نازل ہو چکے ہوتے ہیں۔خلفاء دین کی تشریح اور وضاحت کرتے ہیں اور مُغلق امور کو کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور ایسی راہیں بتاتے ہیں جن پر چل کر اسلام کی ترقی ہوتی ہے۔یا د رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ جو مسلمانوں کا دین ہوگا ہم اسے مضبوط کریں گے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ جو خلیفہ کا دین ہوگا اسے مضبوط کریں گے۔جس پالیسی کو خلفاء پیش کریں گے ہم اسے ہی کامیاب بنائیں گے اور جو پالیسی ان کے خلاف ہو گی اُسے نا کام کریں گے۔پس اگر کوئی مبائع اور مومن کوئی اور طریق اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اسے نا کام کریں گے۔اب اس پر غور کرو ایک شخص یا دس ہیں یا ہزار دو ہزار یا دس بیس ہزار لوگ خلیفہ سے کوئی الگ پالیسی رکھتے ہیں یا اپنی اپنی الگ پالیسیاں رکھتے ہیں تو خدا تعالیٰ نے تو جیسا کہ وہ فرما چکا ہے صرف خلیفہ کی پالیسی کو ہی کامیاب کرنا ہے۔تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اگر جماعت ایک لاکھ کی ہے تو اس میں سے اتنے ہزار کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔اگر ایک ہزار کی کوششیں اللہ تعالیٰ رڈ کر رہا ہے تو گویا ننانوے ہزار یا اگر دس ہزار کی رڈ ہو رہی ہیں تو نوے ہزار ، اگر بیس ہزار کی رڈ ہو رہی ہیں تو اسی ہزار ، اگر پچاس ہزار کی رڈ ہو رہی ہیں تو صرف پچاس ہزار لوگوں کی کوششیں کامیابی کے راستہ پر ہو رہی ہوں گی اور اس طرح جس نسبت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے فتوحات آنی ہیں وہ اسی نسبت سے کم ہوتی جائیں گی۔ایک لاکھ سپاہیوں کو جو کامیابی ہوئی تھی اتنی نہیں ہوگی اور جتنی کوششیں رڈ ہو رہی ہوں گی اتنی کامیاب کوششوں میں کمی ہو جائے گی اور اس طرح ایسے لوگ دین کی مدد کر نے والے نہیں ہوں گے بلکہ اس میں رخنہ ڈالنے والے اور اسے ضعیف اور کمزور کرنے والے ہوں گے۔یہ تمام نقائص پیدا ہی تب ہوتے ہیں جب خدا تعالیٰ کے کلام پر یقین نہ ہوا اور یہ خیال ہو کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مدد نہیں آئے گی بلکہ ہم نے خود کام کرنا ہے۔یا خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر چلنے سے کامیابی نہیں ہوگی بلکہ کامیابی اس طریق پر چلنے سے ہوگی جو ہم نے سوچا ہے۔جس شخص نے جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو اُس کیلئے ضروری