خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 156
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم خطبہ میں بعض باتیں بیان کروں۔میں نے متواتر جماعت کو بتلایا ہے کہ خلافت کی بنیاد محض اور محض اس بات پر ہے کہ الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِه یعنی امام ایک ڈھال ہوتا ہے اور مومن اس ڈھال کے پیچھے سے لڑائی کرتا ہے۔مومن کی ساری جنگیں امام کے پیچھے کھڑے ہو کر ہوتی ہیں۔اگر ہم اس مسئلہ کو ذرا بھی بھلا دیں، اس کی قیود کو ڈھیلا کر دیں اور اس کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دیں تو جس غرض کیلئے خلافت قائم ہے وہ مفقود ہو جائے گی۔میں جانتا ہوں انسانی فطرت کی کمزوریاں کبھی کبھی اسے اپنے جوش اور غصہ میں اپنے فرائض سے غافل کر دیتی ہیں۔پھر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کبھی انسان ایسے اشتعال میں آجاتا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتا کہ میں منہ سے کیا کہ رہا ہوں مگر بہر حال یہ حالت اس کی کمزوری کی ہوتی ہے نیکی کی نہیں۔اور مومن کا کام یہ ہے کہ کمزوری کی حالت کو مستقل نہ ہونے دے اور جہاں تک ہو سکے اسے عارضی بنائے بلکہ بالکل دُور کر دے۔اگر ایک امام اور خلیفہ کی موجودگی میں انسان یہ سمجھے کہ ہمارے لئے کسی آزاد تد بیر اور مظاہرہ کی ضرورت ہے تو پھر خلیفہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔امام اور خلیفہ کی ضرورت یہی ہے کہ ہر قدم جو مومن اُٹھاتا ہے اُس کے پیچھے اُٹھاتا ہے اپنی مرضی اور خواہشات کو اس کی مرضی اور خواہشات کے تابع کرتا ہے ، اپنی تدبیروں کو اس کی تدبیروں کے تابع کرتا ہے ، اپنے ارادوں کو اس کے ارادوں کے تابع کرتا ہے، اپنی آرزوؤں کو اس کی آرزوؤں کے تابع کرتا ہے اور اپنے سامانوں کو اس کے سامانوں کے تابع کرتا ہے۔اگر اس مقام پر مومن کھڑے ہو جائیں تو ان کیلئے کامیابی اور فتح یقینی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اسی نکتہ کو واضح کرنے کے لیے فرماتا ہے کہ وليُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنا ل یعنی جو خلفاء الله تعالیٰ کی طرف سے مقرر کئے جاتے ہیں ہمارا وعدہ یہ ہے کہ وَلِيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ار تضى لهم یعنی ان کے طریق کو جو ہم ان کیلئے خود چنیں گے دنیا میں قائم کریں گے۔دین کے معنی صرف مذہب کے ہی نہیں۔گو مذ ہب بھی اس میں شامل ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مذہب تو انبیاء کے ذریعہ سے قائم ہوتا ہے۔خلفاء کے ذریعہ سنن اور طریقے قائم کئے جاتے ہیں