خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 141

خلافة على منهاج النبوة ۱۴۱ جلد سوم۔اگر شیر کا دایاں کان نہ ہو تو آیا شیر رہتا ہے یا نہیں؟ وہ کہنے لگا رہتا کیوں نہیں۔اس نے کہا اچھا تو دایاں کان چھوڑ دو اور آگے چلو۔جب اس نے دوسرا کان بنانے کیلئے سوئی ماری تو پھر اسے درد ہوا اور وہ کہنے لگا اب کیا کرنے لگے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ اب بایاں کان گود نے لگا ہوں۔وہ کہنے لگا اگر بایاں کان نہ ہو تو شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا رہتا کیوں نہیں۔وہ کہنے لگا اسے بھی چھوڑ دو اور آگے چلو۔پھر جب اس نے ٹانگ گودنا شروع کی تو وہ پھر کہنے لگا اگر ٹانگ نہ ہو تو شیر رہتا ہے یا نہیں؟ وہ کہنے لگا ٹا نگ کے بغیر بھی شیر ہوسکتا ہے۔کہنے لگا اسے بھی چھوڑو اور آگے چلو۔اس کے بعد اس نے دوسری ٹانگ گودنی پاہی تو پھر اس نے روک دیا۔یہ دیکھ کر اُس گودنے والے نے سوئی ہاتھ سے رکھ دی اور کہنے لگا ایک کان کے بغیر بھی شیر رہ سکتا ہے اور دوسرے کان کے بغیر بھی مگر یہ سب چیزیں چھوڑ دی جائیں تو پھر شیر کا کچھ نہیں رہتا۔تو جب انسان دلیری سے یہ کہتا ہے کہ اگر فلاں نیکی چھوڑ دوں تب بھی ایمان باقی رہتا ہے اور فلاں گناہ کرلوں تب بھی میرے ایمان میں کوئی خلل واقع نہیں ہو سکتا۔وہ آہستہ آہستہ تمام نیکیوں کو چھوڑتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اُس کے ایمان میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔پھر یہ بھی یاد رکھو کہ زمانوں کے بدلنے سے سزائیں بھی بدل جاتی ہیں۔اور گو واقعہ ایک ہی قسم کا ہوتا ہے مگر حالات کے اختلاف کی وجہ سے سزا کی نوعیت تبدیل ہو جاتی ہے۔مثال کے طور پر دیکھ لوتم کسی شہر میں رہتے ہو اور تمہارے پاس کوئی بھوکا شخص آتا ہے اور کہتا ہے مجھے کچھ کھانے کیلئے دو تمہارے پاس کھانا موجود ہے مگر تم اسے نہیں دیتے اور وہ چلا جاتا ہے۔اب تم ایک گناہ کے مرتکب ہوئے ہو کیونکہ وہ بھوکا تھا مگر تم نے اسے کھانا نہیں دیا۔لیکن اگر تم ایک ایسے جنگل میں ہو جہاں ہیں ہیں تھیں تھیں میل تک آبادی کا نام و نشان نہیں اور کہیں سے کھانا ملنے کی امید نہیں ہو سکتی لیکن تمہارے پاس وافر کھانا موجود ہے مثلاً ایک گھوڑا روٹیوں اور کھانے پینے کے سامان سے لدا ہوا تمہارے پاس کھڑا ہے ایسی حالت میں اگر ایک بھو کا تمہارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے میرا بہت بُرا حال ہے مجھے ایک روٹی دے دو تا اسے کھا کر میرے بدن میں کچھ طاقت آجائے اور میں آبادی کے قریب پہنچ جاؤں تو ایسی