خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 128
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۸ جلد سوم نے اختیار کی۔غرض یہ بات جو کہی گئی ہے اس میں دیدہ دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوئے انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔اگر غیر مبائعین کو ہم غیر احمدی کہا کرتے تب تو انہیں شبہ ہوسکتا تھا اور وہ کہہ سکتے تھے کہ مجھے بھی ان کی طرح غیر احمدی کہا جاتا ہے۔مگر غیر مبائعین جو نہ صرف خلافت بلکہ نبوت میں بھی ہم سے اختلاف رکھتے ہیں ، جب ہم نے انہیں بھی آج تک غیر احمدی نہیں کہا تو ان کو کس طرح احمدیت سے خارج قرار دے سکتے تھے اور جب ہم نے انہیں احمدیت سے خارج قرار نہیں دیا تو ان کا یہ کہنا کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے الگ ہو گئے تھے تو کیا وہ اسلام سے نکل گئے تھے ، صریح غلط بیانی ہے جو انہوں نے لوگوں کو جوش دلانے کیلئے کی ہے۔پس نہ کبھی ہم نے ان کو غیر احمدی کہا اور نہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے متعلق ہم نے کہا کہ وہ اسلام سے نکل گئے تھے بلکہ مصری صاحب سے زیادہ اختلاف رکھنے والوں یعنی غیر مبائعین کے متعلق بھی ہم نے کبھی نہیں کہا کہ وہ غیر احمدی ہو گئے ہیں۔باوجود یکہ وہ ہم سے خلافت میں اختلاف رکھتے ہیں، امامت میں اختلاف رکھتے ہیں، نبوت میں اختلاف رکھتے ہیں ، غیر احمدیوں کے جنازے پڑھنے اور ان سے رشتہ داری تعلقات قائم کرنے میں اختلاف رکھتے ہیں، کفر و اسلام میں اختلاف رکھتے ہیں پھر بھی ہم نے انہیں کبھی نہیں کہا کہ وہ غیر احمدی ہو گئے بلکہ ان کے پیچھے اشد ضرورت کے موقع پر نماز پڑھ لینے کے جواز کے متعلق میرے فتوے شائع شدہ موجود ہیں۔اور ان میں سے بعض کے جنازے پڑھنا میرے عمل اور طریق سے ثابت ہے۔تو پھر کس طرح ممکن تھا کہ مصری صاحب کی موجودہ حالت میں ہم انہیں غیر احمدی کہتے۔اب میں ان روایات کو لیتا ہوں جو انہوں نے بیان کی ہیں۔پہلی روایت انہوں نے یہ پیش کی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت ابو بکر کی چھ ماہ تک بیعت نہیں کی تھی کے یہ روایت صحیح ہے۔چنانچہ بعض روایتوں میں اس قسم کا ذکر آتا ہے مگر ساتھ ہی یہ یا درکھنا چاہئے کہ یہ مختلف فیہ روایت ہے یعنی یہ بھی روایت آتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت فورا کر لی تھی سکے اور یہ بھی روایت آتی ہے کہ انہوں نے