خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 123
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۳ جلد سوم میں حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کو پیش کرنا اور یہ دریافت کرنا کہ کیا وہ بیعت سے علیحدہ ہو کر اسلام سے نکل گئے تھے صریح دھوکا اور فریب نہیں تو اور کیا ہے۔میں نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ جماعت سے الگ ہو چکے ہیں نہ یہ کہ وہ احمد بیت یا اسلام سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔اب دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ اگر ہماری جماعت کا یہ محاورہ ہوتا کہ جو شخص بھی ہماری جماعت میں نہیں وہ احمدی نہیں تب بھی وہ کہہ سکتے تھے کہ گوتم نے یہ الفاظ نہ کہے ہوں کہ میں احمدیت سے خارج ہوں مگر چونکہ جماعت میں عام محاورہ یہی ہے کہ جو شخص جماعت سے علیحدہ ہوتا ہے اسے احمدی نہیں سمجھا جاتا اس لئے میں نے دھوکا کھایا اور سمجھا کہ آپ مجھے احمدی نہیں سمجھتے۔گو ہم پھر بھی مصری صاحب کو غلطی پر سمجھتے۔کیونکہ جب ہم نے انہیں غیر احمدی نہ کہا ہوتا تو انکا کوئی حق نہ تھا کہ وہ خود بخود یہ قیاس کر لیتے کہ مجھے احمدی نہیں سمجھا جا تا۔لیکن بہر حال اس صورت میں کسی حد تک ہم سمجھ سکتے تھے کہ انہوں نے دھوکا کھایا۔مگر واقعہ یہ ہے کہ ہماری جماعت میں نہ صرف یہ کہ یہ محاورہ نہیں بلکہ اس کے بالکل الٹ محاورہ رائج ہے۔آپ لوگوں میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ ۲۳ سال حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل کو وفات پائے گزر چکے ہیں۔اس ۲۳ سال کے عرصہ میں احمد یوں میں سے جن لوگوں نے میری بیعت نہیں کی وہ سینکڑوں کی تعداد میں ہیں اور گو ہم ان کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ وہ ہماری جماعت میں نہیں مگر ہم یہ کبھی نہیں کہتے کہ وہ احمدی نہیں۔ہم یہ تو کہا کرتے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب ہماری جماعت میں نہیں یا یہ تو ہم کہا کرتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب ہماری جماعت میں نہیں مگر ہم یہ نہیں کہتے کہ مولوی محمد علی صاحب احمدی نہیں یا خواجہ کمال الدین صاحب احمدی نہیں۔چنانچہ اگر کوئی شخص ہماری جماعت کے کسی آدمی سے کہے کہ مولوی محمد علی صاحب کے پاس میری سفارش کر دیں تو وہ یہی کہے گا کہ مولوی محمد علی صاحب سے ہمارا کیا تعلق ، وہ ہماری جماعت میں نہیں۔لیکن کیا آج تک ہم میں سے کسی شخص نے یہ کہا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب غیر احمدی ہیں؟ یقیناً ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جاسکتی کہ ہم میں سے کسی عالم دین نے اُن کو غیر احمدی کہا ہو۔پس ۲۳ سال کے عرصہ میں