خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 122

خلافة على منهاج النبوة ۱۲۲ جلد سوم علیہ الصلوۃ والسلام نے وفات پائی اور آج جولائی ۱۹۳۷ء ہے گویا ۲۹ سال اور کچھ مہینے سلسلۂ خلافت کو شروع ہوئے ہو چکے ہیں۔اس تیس سال کے عرصہ میں ان اصطلاحات کے متعلق ہماری جماعت کے خیالات بار بار ظاہر ہو چکے ہیں۔اگر کوئی نئی بات ہو تو انسان کہہ سکتا ہے کہ مجھے معاف فرمائیے مجھے چونکہ علم نہیں تھا اس لئے دھوکا کھایا۔مگر جس امر کے متعلق ۳۰ سال تک ہرا دنی اعلیٰ ، چھوٹا بڑا ، عالم جاہل گفتگو کرتے چلے آئے ہوں اور بار باراس کے متعلق جماعت کے خیالات ظاہر ہو چکے ہوں ، اس کے متعلق ایک عالم کہلانے والا ، ایک مولوی کہلانے والا ، ایک تبلیغیں کرنے والا ، ایک مناظرے کرنے والا ، ایک بحثیں کرنے والا اور ایک مدرسہ دینیہ کا لمبے عرصہ تک ہیڈ ماسٹر رہنے والا اگر یہ کہے کہ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا، دراصل مجھے دھوکا لگ گیا تھا تو کیا کوئی بھی عقلمند اس کے اس عذر کو تسلیم کرے گا ؟ اگر مصری صاحب جب میری بیعت سے الگ ہوئے تھے ہم ان کی نسبت کہتے کہ مصری صاحب غیر احمدی ہو گئے ہیں تب بیشک وہ کہہ سکتے تھے کہ میں نے تو صرف خلیفہ وقت کی بیعت چھوڑی ہے اور آپ لوگ مجھے احمدیت سے ہی خارج سمجھنے لگ گئے ہیں۔یا اگر میں نے اپنی کسی تحریر یا تقریر میں ایک جگہ بھی یہ الفاظ استعمال کئے ہوں کہ مصری صاحب غیر احمدی ہو گئے ہیں تب تو بے شک وہ یہ مثال پیش کر سکتے اور کہہ سکتے تھے کہ جب حضرت طلحہ اور حضرت زبیر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے الگ ہوئے تھے تو کیا وہ اسلام سے خارج ہو گئے تھے ؟ اگر نہیں تو پھر مجھے کیوں غیر احمدی کہا جاتا ہے۔لیکن ہم نے ایسا نہیں کہا۔اگر کوئی شخص میری کسی تحریر یا تقریر سے اشارہ یا وضاحاً ظا ہر یا باطناً یہ ثابت کر دے کہ میں نے کہا ہو مصری صاحب احمدیت سے علیحدہ ہو گئے ہیں اور اب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر بھی ایمان نہیں رکھتے تب بیشک یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے بیعت سے علیحدگی اختیار کی ہے، احمدیت سے علیحد گی تو اختیار نہیں کی اور تب بیشک وہ خود بھی سوال کر سکتے تھے کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے بھی حضرت علی کی بیعت کو فتح کر لیا تھا مگر کیا کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔لیکن جب میں نے ایک دفعہ بھی یہ الفاظ استعمال نہیں کئے اور نہ ہماری جماعت نے انہیں غیر احمدی کہا تو ان کا اپنے دعوئی کے ثبوت