خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 121
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۱ جلد سوم احادیث نبوی عمل صحابہ کرام میں اس کا نام ونشان بھی نہیں ملتا۔یہ گویا انہوں نے اس بات کی تائید میں اپنی طرف سے دلائل دیئے ہیں کہ میں خلیفہ کی بیعت سے الگ ہوا ہوں جماعت سے الگ نہیں ہوا۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مصری صاحب نے اس جگہ دیدہ دانستہ غلط بیانی سے کام لیا ہے۔مجھے ہرگز یہ امید نہیں تھی کہ باوجود اس تمام مخالفت کے جو انہوں نے اختیار کی ہے، باوجود اس تمام عناد کے جو انہوں نے ظاہر کیا ہے اور باوجود اس شدید دشمنی کے جس کے وہ مرتکب ہوئے ہیں وہ احمدیت سے اتنے بے بہرہ ہو جائیں گے کہ چند دنوں کے اندر ہی اندر دیدہ دانستہ خلاف بیانی کے مرتکب ہونے لگ جائیں گے۔چنانچہ میں ابھی ثابت کر دوں گا اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایسا ثابت کر دوں گا کہ ایک جاہل سے جاہل اور ان پڑھ سے ان پڑھ انسان بھی یقینی طور پر سمجھ جائے گا کہ مصری صاحب نے قطعی طور پر جان بوجھ کر غلط بیانی سے کام لیا ہے۔میرے اعلان کا مضمون یہ تھا کہ مصری صاحب ہماری جماعت سے الگ ہیں میں انہیں اپنی جماعت سے خارج سمجھتا اور ان کے خروج کا اعلان کرتا ہوں۔مصری صاحب اس پر اعتراض یہ کرتے ہیں کہ میں نے جماعت سے نہیں بلکہ بیعت سے الگ ہونے کو کہا تھا۔پس یہ مجھ پر غلط الزام ہے کہ میں نے جماعت چھوڑ دی ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر الگ ہو گئے تھے مگر کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔اب اس امر کو دیکھو کہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ وہ جماعت سے الگ ہو گئے اور وہ مثال میں حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیر کو پیش کرتے ہوئے دریافت یہ کرتے ہیں کہ کیا وہ اسلام سے نکل گئے تھے؟ یہ وہ دیدہ دانستہ دھوکا ہے جو انہوں نے لوگوں کو دیا۔کیا ہماری جماعت آج قائم ہوئی ہے کہ ابھی تک ہم اپنی اصطلاحات کے مفہوم کو واضح نہیں کر سکے یا کیا مصری صاحب نئے آدمی ہیں کہ انہیں آج تک یہ علم نہیں ہو سکا کہ خلیفہ وقت کی بیعت سے جب کوئی شخص الگ ہوتا ہے تو وہ احمدیت یا اسلام سے خارج نہیں سمجھا جا تا بلکہ جماعت سے علیحدہ سمجھا جاتا ہے۔جماعت احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد خلافت کے سلسلہ میں منسلک ہوئے قریبا تمیں سال گزر چکے ہیں۔مئی ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود