خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 120

خلافة على منهاج النبوة ۱۲۰ جلد سوم اس سے بہت کم ہے جو انہوں نے ہمارے متعلق کہا۔اسی طرح ان کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں نے جماعت کیلئے قربانی کی۔وہ حالات سے مجبور ہو گئے تھے اس لئے وہ ہم سے علیحدہ ہوئے ور نہ انہوں نے پہلا خط جو مجھے لکھا اس سے ان کا مقصد ہرگز جماعت سے علیحد گی نہیں تھا بلکہ مجھے ڈرانا اور بعض باتیں مجھ سے منوانا تھا۔لیکن جب ان کی وہ غرض پوری نہ ہوئی اور انہوں نے دیکھا کہ اب میرا اندرونہ بھی ظاہر ہو چکا ہے جس کے بعد میرا اس جماعت میں رہنا ناممکن ہے تو انہوں نے خود ہی اپنے تیسرے خط میں جماعت سے علیحدہ ہونے کا وقت مقرر کر دیا۔اسی اشتہار میں انہوں نے ایک بات یہ بھی لکھی ہے کہ میرے متعلق کہا یہ جاتا ہے کہ میں جماعت سے الگ ہو گیا ہوں حالانکہ میں جماعت سے الگ نہیں ہوا صرف بیعت سے الگ ہوا ہوں۔میں نے اس سوال کے اصولی حصہ کا جواب پہلے دے دیا ہے بلکہ ان کے اشتہار کے شائع ہونے سے بھی پہلے میرے ایک خطبہ میں ان کے اس اعتراض کا جواب آچکا ہے اور وہ خطبہ آج کے الفضل میں چھپ بھی گیا ہے۔آج میں ان کے بعض اُن دلائل کا جواب دینا چاہتا ہوں جو انہوں نے اس بارہ میں اپنے اشتہار میں دیئے ہیں۔وہ ہیں۔وہ لکھتے ہیں میں اس جگہ بعض دوستوں کے اس خیال کے متعلق بھی کہ خلیفہ سے علیحدگی جماعت سے علیحدگی کے ہی مترادف ہے کچھ عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔یہ بات بالکل غلط ہے کہ جو شخص خلیفہ کی بیعت نہیں کرتا یا بیعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے وہ اصل سلسلہ سے بھی الگ ہو جاتا ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہ نے حضرت ابوبکر کی چھ ماہ تک بیعت نہیں کی تھی تو کیا کوئی ان کے متعلق یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ وہ اُس وقت تک اسلام سے خارج تھے؟ حضرت علی کی بیعت مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ نے نہیں کی تھی تو کیا وہ سب اسلام سے خارج تھے ؟ حضرت عائشہ صدیقہ نے حضرت علی کی بیعت نہیں کی تھی تو کیا انہیں اسلام سے خارج سمجھتے ہو؟ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیر جیسے جلیل القدر صحابہ نے حضرت علی کی بیعت کر لینے کے بعد بیعت کو فتح کر لیا مگر کوئی ہے جو جرأت کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔دوستو ! یہ خیال کسی مصلحت کے ماتحت آج پیدا کیا جا رہا ہے ورنہ قرآن کریم ،