خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 117

خلافة على منهاج النبوة 112 جلد سوم شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے خط کا جواب خطبہ جمعہ ۱۶ جولائی ۱۹۳۷ء میں شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے تیسرے خط کے جواب میں حضور فرماتے ہیں :۔تیسرے خط میں شیخ صاحب نے لکھا ہے کہ مجھے معلوم ہو چکا ہے اب آپ سے نرمی کرنا سلسلہ کے ساتھ غداری ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ دو سال تک یہ مسئلہ کیوں نہ سُوجھا۔۱۳ روز کے اندر اندر ہی یہ رموز ان پر کھلے، دو سال پہلے کیوں نہ کھلے۔اس الزاموں والے خط میں بعض جگہ تو الزام نمایاں ہیں گو مجمل اور تشنہ ، تفصیل اور بعض جگہ یہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ وہ کہتے کیا ہیں۔ان دونوں طریقوں سے صاف پتہ لگتا ہے کہ پہلا خط اس غرض سے تھا کہ دھمکیوں سے ڈر کر میں اِن کی بات مان لوں اور وہ جو چاہیں مجھ سے کراسکیں۔جیسے دلی میں بادشاہ گر ہوتے تھے یہ خلیفہ گر بننا چاہتے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ ظاہر میں تو میں لیکن باطن میں وہ خلیفہ ہوں۔مگر انہیں کیا معلوم کہ خدا اور انسان کے بنائے ہوئے خلفاء میں کیا فرق ہوتا ہے۔خدا کا بنایا ہوا خلیفہ بھی کسی سے نہیں ڈرتا۔کیا میں اس بات سے ڈر جاؤں گا کہ لوگ مرتد ہو جائیں گے؟ جس کے لئے ارتداد مقدر ہے وہ کل کی بجائے بیشک آج ہی مرتد ہو جائے ، مجھے کیا فکر ہے۔میں جب جانتا ہوں کہ میں خدا کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں تو خواہ ایک آدمی بھی میرے ساتھ نہ ہو تو بھی مجھے کیا ڈر ہے۔جب خدا تعالیٰ خود مجھے تسلیاں دیتا ہے تو میں انسانوں سے کیوں ڈروں۔ادھر یہ لوگ مجھے ڈراتے اور اُدھر خدا تعالیٰ مجھے تسلیاں دیتا ہے۔ان چند روز میں اس کثرت سے مجھے الہام اور رویا ہوئے ہیں کہ گزشتہ دو سال میں اتنے نہ ہوئے ہوں گے۔ابھی چند روز ہوئے کہ مجھے الہام ہوا جو اپنے اندر دعا کا رنگ رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اے خدا! میں چاروں طرف سے مشکلات میں گھرا ہوا ہوں تو میری