خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 106
خلافة على منهاج النبوة 1۔7 جلد سوم شرم نہیں آتی کہ تم ایک سخت بد لگام دشمن کا جواب دے کر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دلواتے ہو اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھ رہتے ہو !! اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ سچ یہ عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ یا گالیاں دینے والوں کو مٹا ڈالو۔مگر ایک طرف تم جوش اور بہادری کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف بُزدلی اور دون ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہو۔میں تو ایسے لوگوں کے متعلق بھی یہی کہتا ہوں کہ وہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دلواتے ہیں اور وہ آپ سلسلہ کے دشمن اور خطرناک ہیں۔اگر کسی کو مارنا پیٹنا جائز ہوتا تو میں تو کہتا کہ ایسے لوگوں کو بازار میں کھڑا کر کے انہیں خوب پیٹنا چاہئے کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ گالیاں دلواتے ہیں اور پھر مخلص اور احمدی کہلاتے پھرتے ہیں۔میں اس موقع پر ان لوگوں کو بھی جو انہیں اعلیٰ مخلص سمجھتے ہیں کہتا ہوں کہ مومن بیوقوف نہیں ہوتا۔کیا تم سمجھتے ہو کہ گالیاں دینا کوئی بہادری ہے؟ تم کسی چوہڑے کو دو روپے دے کر دیکھ لو وہ تم سے زیادہ گالیاں دے دے گا۔پس تم بھی اگر گالیاں دیتے ہو تو زیادہ سے زیادہ چوڑھوں والا کام کرتے ہو۔یہ کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہیں جو تمہیں سمجھ میں نہ آسکے۔مگر میں متواتر تین سال سے سمجھا رہا ہوں اور تم ابھی تک سمجھنے میں نہیں آتے۔میرے سامنے کوئی آٹھ دس برس کا بچہ لے آؤ ، میں یہ باتیں اُس کے سامنے دُہرا دیتا ہوں تمہیں خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ وہ بچہ میری بات کو کتنی جلدی سمجھ لیتا ہے مگر کیا میرے تین سالہ خطبات بھی تمہیں میرے منشاء سے آگاہ نہیں کر سکے۔پس میں پھر ایک دفعہ کھول کھول کر بتا دیتا ہوں کہ شریفانہ اور عقلمندانہ طریق دو ہی ہوتے ہیں۔یا انسان کو مرنا آتا ہو یا انسان کو مارنا آتا ہو۔ہمارا طریقہ مرنے کا ہے مارنے کا نہیں۔ہم کہتے ہیں ہمیں اللہ تعالیٰ نے ابھی اس مقام پر رکھا ہوا ہے کہ مر جاؤ مگر اپنی زبان نہ کھولو۔کیا تم نے جہاد پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظم نہیں پڑھی؟ اس میں کس وضاحت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا ہے کہ اگر جہاد کا موقع ہوتا تو خدا تعالیٰ تمہیں تلوار کیوں نہ دیتا۔اُس کا تلوار نہ دینا بتاتا ہے کہ یہ تلوار سے جہاد کا موقع