خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 93
خلافة على منهاج النبوة ۹۳ جلد سوم امام اور ماموم کا مقام اور اس کے تقاضے فرموده ۲۸ رمئی ۱۹۳۷ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- غالبا د و جمعے گزرے ہیں کہ میں نے ایک خطبہ اپنے سفر کے دوران میں پڑھا تھا اور ہدایت کی تھی کہ اسے فوراً الفضل میں چھپنے کیلئے بھجوا دیا جائے کیونکہ وہ خطبہ موجودہ فتنوں کے متعلق تھا اور گو وہ پڑھا سفر میں گیا تھا اور جو لوگ اُس وقت سامنے بیٹھے تھے ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی تھی جو قادیان میں نہیں رہتے تھے مگر اُس خطبہ کے پہلے مخاطب قادیان میں رہنے والے لوگ ہی تھے اور میں چاہتا تھا کہ جس قدر جلد ہو سکے اسے قادیان میں رہنے والے لوگوں تک پہنچا دیا جائے تا کہ کم سے کم خدا تعالیٰ کے سامنے میں بری الذمہ ہوسکوں اور اُسے کہہ سکوں کہ میں نے ان کے سامنے ہدایت اور راستی پیش کر دی تھی۔اگر با وجود میرے ہدایت پیش کر دینے کے انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا تو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ان پر ہے۔میں آج پھر اُسی مضمون کے متعلق آپ لوگوں سے کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں اور نہ صرف آپ لوگوں سے بلکہ باہر کی جماعتوں سے بھی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات سے بری الذمہ ہوتا ہوں کہ میں نے وہ صداقت آپ لوگوں تک پہنچادی ہے جو میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا منشاء اور قرآنی تعلیم ہے۔میں نے اُس خطبہ میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ ولا ئی تھی کہ جو جماعتیں منظم ہوتی ہیں اُن پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور کچھ شرائط کی پابندی کرنی ان کیلئے لازمی ہوتی ہے جن کے بغیر ان کے کام کبھی بھی صحیح طور پر نہیں چل