خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 80

خلافة على منهاج النبوة ۸۰ جلد دوم خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے اور اس وجہ سے کہ اُس کے وجود میں اس کے اتباع خدا ئی نشانات دیکھتے رہتے ہیں اُس کے زمانہ میں یہ خیال تک نہیں کرتے کہ وہ فوت ہو جائے گا۔یہ نہیں کہ وہ نبی کو بشر نہیں سمجھتے بلکہ شدت محبت کی وجہ سے وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم پہلے فوت ہو نگے اور نبی کو اللہ تعالیٰ ابھی بہت زیادہ عمر دے گا۔چنانچہ آج تک کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے متعلق اس کی زندگی میں اس کے متبعین نے یہ سمجھا ہو کہ وہ فوت ہو جائے گا اور ہم زندہ ہے رہیں گے بلکہ ہر شخص (سوائے حدیث العہد اور قلیل الایمان لوگوں کے ) یہ خیال کرتا ہے کہ نبی تو زندہ رہے گا اور وہ فوت ہو جائیں گے اور اس وجہ سے وہ ان اُمور پر کبھی بحث ہی نہیں کرتے جو اس کے بعد اُمت کو پیش آنے والے ہوتے ہیں۔اور زمانوں میں تو لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اگر فلاں فوت ہو گیا تو کیا بنے گا مگر نبی کے زمانہ میں انہیں اس قسم کا خیال تک نہیں آتا۔اور اس کی وجہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں شدت محبت ہوتی ہے چنانچہ اس کا ہمیں ذاتی تجربہ بھی ہے۔ایک ذاتی تجربہ ہم میں سے کوئی احمدی سوائے اس کے کہ جس کے دل میں خرابی پیدا ہو چکی ہو یا جس کے ایمان میں کوئی نقص واقع ہو چکا ہو ایسا نہیں تھا جس کے دل میں کبھی بھی یہ خیال آیا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فوت ہو جائیں گے اور ہم آپ کے پیچھے زندہ رہ جائیں گے۔چھوٹے کیا اور بڑے کیا ، بچے کیا اور بوڑھے کیا ، مرد کیا اور عورتیں کیا سب یہی سمجھتے تھے کہ ہم پہلے فوت ہو نگے اور حضرت صاحب زندہ رہیں گے۔غرض کچھ شدت محبت کی وجہ سے اور کچھ اس تعلق کی عظمت کی وجہ سے جو نبی کو خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کتنی لمبی عمر دے گا۔چاہے کو ئی شخص یہ خیال نہ کرتا ہو کہ یہ نبی ہمیشہ زندہ رہے گا مگر یہ خیال ضرور آتا ہے کہ ہم پہلے فوت ہونگے اور خدا تعالیٰ کا نبی دنیا میں زندہ رہے گا۔چنانچہ بسا اوقات اٹھارہ اٹھارہ ہیں بیس سال کے نوجوان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوتے اور نہایت لجاجت سے عرض کرتے کہ حضور! ہمارا جنازہ خود پڑھائیں۔اور ہمیں تعجب آتا کہ یہ تو ابھی نوجوان ہیں اور حضرت صاحب ستر برس سے اوپر کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اس کے