خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 79

خلافة على منهاج النبوة 29 جلد دوم ذریعہ ہمیشہ عمل ہوتے رہنا چاہئے۔قبائل عرب کی بغاوت کی وجہ میں سمجھتا ہوں اس دھوکا کی وجہ سے کہ نظام سے تعلق رکھنے والے احکام رسول کریم ﷺ کی ذات سے مختص تھے آپ کی وفات کے بعد عرب کے قبائل نے بغاوت کر دی اور انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔وہ بھی یہی دلیل دیتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کو زکوۃ لینے کا اختیار ہی نہیں دیا۔چنانچہ وہ فرماتا ہے۔خُذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو ان کے اموال کا کچھ حصہ بطور زکوۃ لے۔یہ کہیں ذکر نہیں کہ کسی اور کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زکوۃ لینے کا اختیار ہے۔مگر مسلمانوں نے ان کی اس دلیل کو تسلیم نہ کیا حالانکہ وہاں خصوصیت کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی مخاطب کیا گیا ہے۔بہر حال جو لوگ اُس وقت مرتد ہوئے اُن کی بڑی دلیل یہی تھی کہ زکوۃ لینے کا صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار حاصل تھا کسی اور کو نہیں۔اور اس کی وجہ یہی دھوکا تھا کہ نظام سے تعلق رکھنے والے احکام ہمیشہ کے لئے قابل عمل نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ احکام مخصوص تھے۔مگر جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں یہ خیال بالکل غلط ہے اور اصل حقیقت یہی ہے کہ جس طرح نماز روزہ کے احکام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک ختم نہیں ہو گئے اسی طرح قومی یا ملکی نظام سے تعلق رکھنے والے احکام بھی آپ کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہو گئے اور نماز با جماعت کی طرح جو ایک اجتماعی عبادت ہے ان احکام کے متعلق بھی ضروری ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں میں آپ کے نائین کے ذریعہ ان پر عمل ہوتا رہے۔مسئلہ خلافت کی تفصیلات اس اصولی بحث کے بعد میں خلافت کے مسئلہ کی تفصیلات کی طرف آتا ہوں۔یا د رکھنا چاہئے کہ نبی کو خدا تعالیٰ سے شدیدا تصال ہوتا ہے ایسا شدید اتصال کہ بعض لوگ اسی وجہ سے دھوکا کھا کر یہ خیال کر لیتے ہیں کہ شاید وہ خدا ہی ہے جیسا کہ عیسائیوں کو اسی قسم کی ٹھوکر لگی۔لیکن جنہیں یہ ٹھو کر نہیں لگتی اور وہ نبی کو بشر ہی سمجھتے ہیں وہ بھی اس شدید اتصال کی وجہ سے جو نبی کو