خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 75
خلافة على منهاج النبوة ۷۵ جلد دوم یہ معنی نہیں کہ وہ احکام ہمیشہ کیلئے واجب العمل بن گئے بلکہ وہ صرف آپ کے ساتھ مخصوص تھے اور جب آپ وفات پاگئے تو ان احکام کا دائرہ عمل بھی ختم ہو گیا۔نبی کے ساتھ اُس کے متبعین کی غیر معمولی محبت علی بن عبدالرزاق کی یہ دلیل اس لحاظ سے تو درست ہے کہ واقع میں نبی کے ساتھ اُس کے ماننے والوں کو غیر معمولی محبت ہوتی ہے۔ہم۔نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ہماری جماعت کے ہزاروں لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو کچھ کرتے دیکھتے تھے وہی خود بھی کرنے لگ جاتے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے کسی نے بطور اعتراض کہا کہ آپ کی جماعت کے بعض لوگ ڈاڑھی منڈواتے ہیں اور یہ کوئی پسندیدہ طریق نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جب ان کے دلوں میں محبت کامل پیدا ہو جائے گی اور وہ دیکھیں گے کہ میں نے ڈاڑھی رکھی ہوئی ہے تو وہ خود بھی ڈاڑھی رکھنے لگ جائیں گے اور کسی وعظ ونصیحت کی انہیں ضرورت نہیں رہے گی۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نبی اور اس کے ماننے والوں کے درمیان محبت کا ایک ایسا رشتہ ہوتا ہے جس کی نظیر اور کسی دُنیوی رشتہ میں نظر نہیں آ سکتی بلکہ بعض دفعہ محبت کے جوش میں انسان بظا ہر معقولیت کو بھی چھوڑ دیتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمر کی عادت تھی کہ جب وہ حج کیلئے جاتے تو ایک مقام پر پیشاب کرنے کیلئے بیٹھ جاتے اور چونکہ وہ بار بار اُسی مقام پر بیٹھتے اس لئے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ کو اسی مقام پر پیشاب آتا ہے ادھر اُدھر کسی اور جگہ نہیں آتا۔انہوں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں پیشاب کرنے کیلئے بیٹھے تھے اس وجہ سے جب بھی میں یہاں سے گزرتا ہوں مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ جاتے ہیں اور میں اس جگہ تھوڑی دیر کیلئے ضرور بیٹھ جا تا ہوں۔تو محبت کی وجہ سے انسان بعض دفعہ ایسی نقلیں بھی کر لیتا ہے جو بظا ہر غیر معقول نظر آتی ہیں۔پس یہ جو اُس نے کہا کہ چونکہ صحابہؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی اس لئے