خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 74
خلافة على منهاج النبوة ۷۴ جلد دوم وغیرہ احکام مذہب کا جزو ہیں اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام ملکی کا کام اور طریق بھی مذہب اور دین کا حصہ ہے اور دُنیوی یا وقتی ہرگز نہیں کہلا سکتا۔کیا نظام سے تعلق رکھنے والے احکام صرف منکرین خلافت کی اس دلیل پر کہ اسلام نے کوئی رسول کریم ﷺ کی ذات سے مخصوص تھے ؟ معنی نظام پیش نہیں کیا جو یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس طرح رسول کریم علیہ کے اعمال کا وہ حصہ جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتا ہے مذہبی حیثیت نہیں رکھے گا بلکہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ کام محض ضرورتِ زمانہ کے ماتحت آپ کرتے تھے اسے علی بن عبدالرزاق نے بھی محسوس کیا ہے اور چونکہ وہ آدمی ذہین ہے اس لئے اس نے اس مشکل کو بھانپا ہے اور یہ سمجھ کر کہ لوگ اس پر یہ اعتراض کریں گے کہ جب قرآن کریم میں ایسے احکام موجود ہیں جن کا تعلق حکومت کے ساتھ ہے تو تم کس طرح کہتے ہو کہ رسول کریم ﷺ نے ان کاموں کو وقتی ضرورت کے ماتحت کیا اور اسلام نے کوئی مخصوص نظام حکومت پیش نہیں کیا اسے اس رنگ میں حل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کہتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی حکومت حکومت رسالت و محبت تھی نہ کہ حکومت ملوکیت۔وہ کہتا ہے بیشک رسول کریم علیہ نے کئی قسم کے احکام دیئے مگر وہ احکام بحیثیت رسول ہونے کے تھے بحیثیت نظام کے سردار ہونے کے نہیں تھے۔اور اس سے اس کی غرض یہ ہے کہ چونکہ وہ احکام نظام کا سردار ہونے کے لحاظ سے نہیں دیئے گئے اس لئے وہ دوسروں کی طرف منتقل نہیں ہو سکتے اور چونکہ وہ تمام احکام بحیثیت رسول تھے اس لئے آپ کی وفات کے ساتھ ہی وہ احکام بھی ختم ہو گئے۔پھر وہ ان تمام اختیارات کو رسول کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص ثابت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ رسول کے ساتھ لوگوں کو غیر معمولی محبت ہوتی ہے اور اس محبت کی وجہ سے ہر شخص اُن کی بات کو تسلیم کر لیتا ہے یہی کیفیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھی۔صحابہ کو آپ کے ساتھ عشق تھا اور وہ آپ کے ہر حکم پر اپنی جانیں فدا کرنے کیلئے تیار رہتے تھے۔پس آپ نے جو حکم بھی دیا وہ انہوں نے مان لیا اور وہ ماننے پر مجبور تھے کیونکہ وہ اگر عاشق تھے تو آپ معشوق ، اور عاشق اپنے معشوق کی باتوں کو مانا ہی کرتا ہے۔مگر اس کے