خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 73
خلافة على منهاج النبوة ۷۳ جلد دوم میں بھرتی کرنا ، معاہدات کرنا اور قضاء کے کام کو سر انجام دینا ہوتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب اختیارات دیئے گئے ہیں یا نہیں۔پہلا امر ملکی حد بندی تھی۔سو اس اختیار کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنا ایک واضح امر ہے کیونکہ آپ نے اعلان کر دیا کہ اتنے حصہ میں مسلمانوں کے سوا اور کوئی نہیں رہ سکتا اور اگر کوئی آیا تو اسے نکال دیا جائے گا۔دوسری طرف فرما دیا کہ جولوگ اس حد کے اندر رہتے ہیں ان کے لئے یہ یہ شرائط ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوسروں سے معاہدات کرنے کا بھی اختیار دیا اور پھر شرائط کے ماتحت اس بات کا بھی اختیار دیا کہ آپ اگر مناسب سمجھیں تو معاہدہ کو منسوخ کر دیں۔اسی طرح آپ کو ٹیکس وصول کرنے کا بھی اختیار دیا گیا۔آپ کو ضرورت پر لوگوں کی مالی ، جانی اور رہائشی آزادی پر پابندیاں عائد کرنے کا بھی اختیار دیا گیا۔غرض حکومت کے جس قدر اختیارات ہوتے ہیں وہ تمام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دے دیئے۔حکومت کا کام بعض باتوں کا حکم دینا ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ یہ حق دیتا ہے۔حکومت کا کام بعض باتوں سے روکنا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق بھی دیتا ہے۔پھر افراد کی مالی ، جانی اور رہائشی آزادی کو حکومت ہی خاص حالات میں سلب کر سکتی ہے۔چنانچہ اس کا حق بھی اللہ تعالیٰ آپ کو دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم ان کے مال لے سکتے ہو، ٹیکس وصول کر سکتے ہو، جانیں ان سے طلب کر سکتے ہو اور جنگ پر لے جا سکتے ہو۔اسی طرح ملک سے لوگوں کو نکالنے کا اختیار بھی آپ کو دیا گیا۔پھر قضاء حکومت کا کام ہوتا ہے سو یہ حق بھی اسلام آپ کو دیتا ہے اور آپ کے فیصلہ کو آخری فیصلہ قرار دیتا ہے۔پھر حکومت کی قسم بھی بتا دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے پابند نہیں کہ تمہاری سب باتیں مانیں بلکہ تم اس بات کے پابند ہو کہ ان کی سب باتیں مانو کیونکہ اگر یہ تمہاری سب باتیں مانے تو اس کے خطرناک نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔پس ان آیات سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق امور حکومت کے انصرام سے وقتی ضرورت کے ماتحت نہ تھا بلکہ شریعت کا حصہ تھا اور جس طرح نماز روزہ