خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 61
خلافة على منهاج النبوة ۶۱ جلد دوم بلکہ دوسری قسم کے مذاہب میں شامل ہے۔اس نے صرف بعض عقائد اور انفرادی اعمال کے بتانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے ان احکام کو بھی لیا ہے جو حکومت اور قانون سے تعلق رکھتے ہیں۔چنانچہ وہ صرف یہی نہیں کہتا کہ نمازیں پڑھو، روزے رکھو، حج کرو، زکوۃ دو بلکہ وہ ایسے احکام بھی بتاتا ہے جن کا حکومت اور قانون سے تعلق ہوتا ہے۔مثلاً وہ میاں بیوی کے تعلقات پر بحث کرتا ہے وہ بتاتا ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان اگر جھگڑا ہو جائے تو کیا کیا جائے اور ان کی باہمی مصالحت کیلئے کیا کیا تدابیر عمل میں لائی جائیں اور اگر کبھی مرد کو اس بات کی ضرورت پیش آئے کہ وہ عورت کو بدنی سزا دے تو وہ سزا کتنی اور کیسی ہو، اسی طرح وہ لین دین کے قواعد پر بھی بحث کرتا ہے وہ بتاتا ہے کہ قرض کے متعلق کتنے گواہ تسلیم کئے جاسکتے ہیں، قرضہ کی کونسی صورتیں جائز ہیں اور کونسی نا جائز ، وہ تجارت اور فنانس کے اصول بھی بیان کرتا ہے، وہ شہادت کے قوانین بھی بیان کرتا ہے جن پر قضاء کی بنیاد ہے۔چنانچہ وہ بتاتا ہے کہ کیسے گواہ ہونے چاہئیں ، کتنے ہونے چاہئیں ، ان کی گواہی میں کن کن امور کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔اسی طرح وہ قضاء کے متعلق کئی قسم کے احکام دیتا ہے اور بتا تا ہے کہ قاضیوں کو کس طرح فیصلہ کرنا چاہئے۔پھر ان مختلف انسانی افعال کی وہ جسمانی سزائیں بھی تجویز کرتا ہے جو عام طور پر قوم کے سپر د ہوتی ہیں۔مثلا قتل کی کیا سزا ہے یا چوری کی کیا سزا ہے؟ اسی طرح وہ وراثت کے قوانین بھی بیان کرتا ہے اور حکومت کو ٹیکس کا جوحق حاصل ہے اس پر بھی پابندیاں لگاتا ہے اور ٹیکسوں کی تفصیل بیان کرتا ہے۔حکومت کو اِن ٹیکسوں کے خرچ کرنے کے متعلق جو اختیارات حاصل ہیں ان کو بھی بیان کرتا ہے ، فوجوں کے متعلق قواعد بھی بیان کرتا ہے، معاہدات کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے۔وہ بتا تا ہے کہ دو قو میں جب آپس میں کوئی معاہدہ کرنا چاہیں تو کن اصول پر کریں۔اسی طرح بین الاقوامی تعلقات کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے، مزدور اور ملازم رکھنے والوں کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے ،سڑکوں وغیرہ کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے۔غرض وہ تمام امور جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں ان سب کو اسلام بیان کرتا ہے۔پس اسلام کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے حکومت کو آزاد چھوڑ دیا ہے بلکہ جیسا کہ ثابت ہے اس نے حکومت کے ہر شعبے پر سیر کن بحث