خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 60
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم رکھا جائے ، قربانی کرنی ہو تو ان اصول کے ماتحت کی جائے ، اسی طرح لین دین اور تجارت وغیرہ معاملات کے متعلق وہ ہدایات دیتا ہے۔غرض وہ معاملات جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یہودی مذہب ان میں بھی دخل دیتا ہے۔چنانچہ جب بھی کوئی شخص موسوی شریعت پر غور کرے گا وہ اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ مذہب کو جس طرح افراد کے معاملات میں دخل دینے کا حق حاصل ہے اسی طرح اسے قومی اور ملکی معاملات میں بھی دخل دینے کا حق حاصل ہے۔اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اسلام اسلام کن مذاہب سے مشابہت رکھتا ہے اپنی قسم کے مذاہب سے الله مشابہت رکھتا ہے۔آیا اول الذکر قسم سے یا دوسری قسم کے مذاہب سے۔اور آیا اسلام نے قومی معاملات میں دخل دیا ہے یا نہیں ؟ اگر محمد ﷺ نے قومی معاملات میں دخل دیا ہے چاہے اپنی مرضی سے اور چاہے اس وجہ سے کہ ملک کو اس کی بے حد ضرورت تھی تو ماننا پڑے گا کہ جیسے جنگل میں اگر کسی کو کوئی آوارہ بچہ مل جائے تو وہ رحم کر کے اسے اپنے گھر میں لے جاتا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اسے اس کی ولایت کا حق حاصل ہو گیا ہے اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے رحم کر کے عرب کے قیموں کو اپنی گود میں لے لیا مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ کو ان کی ولایت کا حق حاصل ہو گیا تھا بلکہ جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے تو انہیں اس بات کا اختیار تھا کہ وہ اپنے لئے جو قانون چاہتے تجویز کر لیتے صلى الله لیکن اگر شریعت اسلام میں ایسے احکام موجود ہوں تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے طور پر ان امور میں دخل نہیں دیا بلکہ آپ نے اُسی وقت ان امور کو اپنے ہاتھ میں لیا جب خدا نے آپ کو اس کا حکم دیا اور جب خدا کا حکم دینا ثابت ہو جائے تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ آپ کی زندگی کا وہ حصہ جو امور سلطنت کے انصرام میں گزرا وہ مذہبی حیثیت رکھتا ہے اور مسلمان جس طرح خالص مذہبی نظام میں اسلامی ہدایات کے پابند ہیں اسی طرح نظام سلطنت میں بھی وہ آزاد نہیں بلکہ شریعتِ اسلامیہ کے قائم کردہ نظام سلطنت کے پابند ہیں۔اس غرض کے لئے جب قرآن کریم اور احادیث نبویہ کو دیکھا جاتا ہے تو ان پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی یہ امر ثابت ہو جاتا ہے کہ اسلام پہلی قسم کے مذاہب میں شامل نہیں