خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 59
خلافة على منهاج النبوة ۵۹ جلد دوم اصلاح کی طرف متوجہ نہ ہونا ایک لعنت ہے۔اس کے یہ معنی نہیں تھے کہ شریعت لعنت ہے بلکہ یہ معنی تھے کہ ظاہر شریعت پر عمل کرنا اور باطنی اصلاح کی طرف تمہارا توجہ نہ کرنا تمہارے لئے لعنت کا باعث ہے۔مگر رومیوں کو ایک بہانہ مل گیا اور انہوں نے کہا اس فقرہ کے یہ معنی ہیں کہ نماز روزہ وغیرہ احکام میں تو مذہب کی اطاعت کی جائے مگر امور دنیوی میں اس کی اطاعت نہ کی جائے اور نہ اسے اِن امور کے متعلق احکام دینے کا کوئی اختیار ہے۔یہ ہماری اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ ہم اپنے لئے جو قانون چاہیں تجویز کر لیں اسی لئے جو رومی عیسائی مذہب اور شریعت کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ وہ لعنت ہے وہ خود ایک قانون بنا کر لوگوں کو اس کے ماتحت چلنے پر مجبور کرتے ہیں اگر محض کسی قانون کا ہونا لعنت ہوتا تو وہ خود بھی کوئی قانون نافذ نہ کرتے۔مگر ان کا ایک طرف مذہب کو لعنت کہنا اور دوسری طرف خود اپنے لئے مختلف قسم کے قوانین تجویز کرنا بتاتا ہے کہ وہ اس فقرہ کے یہی معنی سمجھتے تھے کہ صرف لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لئے جو قانون چاہیں بنالیں مذہب کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دُنیوی امور کے متعلق لوگوں کے سامنے کوئی احکام پیش کرے۔اس طرح انہوں نے موسوی شریعت کی اُن پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد کر لیا جو امور سلطنت میں اس نے لوگوں پر عائد کی ہوئی تھیں۔یہودی مذہب کا نظام حکومت میں دخل اس کے بالتقابل بعض دوسرے مذاہب ہیں جنہوں نے مذہب کے دائرہ کو وسیع کیا ہے اور انسانی اعمال اور باہمی تعلقات اور نظام حکومت وغیرہ کے متعلق بھی قواعد بنائے ہیں اور جو لوگ ایسے مذاہب کو مانتے ہیں لازماً انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ حکومت کے معاملات میں بھی مذہب کو دخل اندازی کا حق حاصل ہے اور نیز یہ کہ ان احکام کی پابندی افراد اور جماعتوں پر اسی طرح واجب ہے جس طرح عقائد اور انفرادی احکام مثلاً نماز اور روزہ وغیرہ میں واجب ہے۔اس کی مثال میں یہودی مذہب کو پیش کیا جا سکتا ہے۔اگر کوئی شخص موسوی شریعت کو پڑھے تو اسے جا بجا یہ لکھا ہوا نظر آئے گا کہ اگر کوئی قتل کرے تو اسے یہ سزا دی جائے ، چوری کرے تو یہ سزا دی جائے ، جنگ ہو تو ان قواعد کو محوظ