خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 58
خلافة على منهاج النبوة ۵۸ جلد دوم عیسائیت کی دلکش تعلیم انہیں اپنی طرف کھینچتی تھی اور دوسری طرف رومن لاء کی برتری اور فوقیت کا احساس انہیں یہودی شریعت کے آگے اپنا سر جھکانے نہیں دیتا تھا۔وہ اسی شش و پنج میں تھے کہ ان کی نگاہ عہدِ جدید کے ان فقرات پر پڑی کہ : - جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب لعنت کے ماتحت ہیں۔‘ ھے اور یہ کہ : - چھڑایا۔د مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے یہ حضرت مسیح کے الفاظ نہیں بلکہ پولوس کے الفاظ ہیں۔مگر انہیں ایک بہانہ ہاتھ آ گیا اور انہوں نے ان فقرات کے معنی وسیع کر کے یہ فیصلہ کر لیا کہ مذہب کو امور دنیوی کے متعلق کچھ حکم دینے کا اختیار نہیں بلکہ ان امور کے متعلق ضرورت کے مطابق ہر قوم اپنے لئے خود قوانین تجویز کر سکتی ہے۔حضرت مسیح کا (اگر بالفرض انہوں نے کبھی یہ فقرہ کہا ہو ) یا آپ کے حواریوں کا تو صرف یہ مطلب تھا کہ یہود صرف ظاہری احکام پر زور دیتے ہیں روحانیت کو انہوں نے بالکل بھلا رکھا ہے اور یہ امر اُن کے لئے لعنت کا موجب ہے۔وہ بے شک ظاہری طور پر نماز پڑھ لیتے ہیں مگر ان کے دل میں کوئی خشیت ، کوئی محبت اور خدا تعالیٰ کی طرف کوئی توجہ پیدا نہیں ہوتی اور یہ نماز ان کیلئے لعنت ہے۔وہ ظاہری طور پر صدقہ و خیرات کرتے وقت بکرے بھی ذبح کرتے ہیں مگر کبھی انہوں نے اپنے نفس کے بکرے کو ذبح نہیں ا کیا اور اس طرح صدقہ و خیرات بھی ان کے لئے لعنت ہے، وہ عبادت میں خدا تعالیٰ کے سامنے ظاہری رنگ میں اپنا سر تو بے شک جُھکاتے ہیں مگر ان کے دل کبھی خدا کے آگے نہیں جھکتے اس وجہ سے ان کی عبادت بھی ان کے لئے لعنت ہے ، وہ بیشک زکوۃ دیتے ہیں اور اس طرح اپنے مال کی خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرتے ہیں مگر کبھی اپنے باطل افکار کی قربانی اپنے لئے گوارا نہیں کرتے اور اس وجہ سے زکوۃ بھی ان کے لئے لعنت کا موجب ہے۔غرض یہود نے چونکہ ظاہر پر زور دے رکھا تھا اور باطنی اصلاح کو انہوں نے بالکل فراموش کر دیا تھا اس لئے حضرت مسیح یا ان کے حواریوں کو یہ کہنا پڑا کہ صرف ظاہر شریعت پر عمل کرنا اور باطن کی