خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 57

خلافة على منهاج النبوة ۵۷ جلد دوم دے لیا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ روزہ رکھنا لعنت ہے۔اگر روزہ رکھنا لعنت کا موجب ہوتا تو انجیل کے پُرانے ایڈیشنوں میں یہ کس طرح لکھا ہوتا کہ : - اس طرح کے دیو بغیر دعا اور روزہ کے نہیں نکالے جاتے، کے اور کیا ممکن ہے کہ ایک طرف تو انجیلوں میں اس قسم کے الفاظ آتے اور دوسری طرف یہ کہا جاتا کہ شریعت لعنت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب عیسائیوں نے یہ کہا کہ شریعت لعنت ہے تو اس کے معنی یہی تھے کہ شریعت کا نظام قومی کو معین کر دینا لعنت ہے اور مذہب کو امور دنیوی کے متعلق کوئی حکم دینے کا اختیار نہیں بلکہ ان امور کے متعلق ضرورت کے مطابق ہر قوم خود پنے لئے قوانین تجویز کر سکتی ہے۔اس طرح انہوں نے موسوی شریعت کی ان پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد کر لیا جو امور سلطنت میں اس نے لگائی تھیں۔بیشک حضرت مسیح علیہ السلام نے جب یہ فقرہ کہا ( بشر طیکہ ان کی طرف اسے منسوب کیا جا سکے ) تو ان کا مطلب یہ نہیں تھا بلکہ ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ یہود نے جو شریعت کے ظاہری احکام کو اس قدر اہمیت دے دی ہے کہ باطن اور روحانیت کو انہوں نے بالکل بھلا دیا ہے یہ امران کے لئے ایک لعنت بن گیا ہے اور اس نے انہیں حقیقت سے کوسوں دور پھینک دیا ہے۔لیکن جب مسیحیت روما میں پھیلی تو چونکہ وہ لوگ اپنے قومی دستور کو ترک کرنے کیلئے تیار نہیں تھے اور سمجھتے تھے کہ رومن لا ء سے بہتر اور کوئی لاء (Law) نہیں بلکہ آج تک رومن لا ء سے ہی یورپین حکومتیں فائدہ اُٹھاتی چلی آئی ہیں اس لئے وہاں کے لوگ جو بڑے متمدن اور قانون دان تھے انہوں نے خیال کیا کہ دُنیا میں ہم سے بہتر کوئی قانون نہیں بنا سکتا ادھر انہوں نے دیکھا کہ عیسائی مذہب کی تعلیم بڑی اچھی ہے خدا تعالیٰ کی محبت کے متعلق معجزات اور نشانات کے متعلق ، دعاؤں کے متعلق مسیح کی قربانیوں کے متعلق۔جب انہوں نے عیسائیت کی تعلیمات کو دیکھا تو ان کے دل عیسائی مذہب کی طرف مائل ہو گئے اور انہوں نے اقرار کیا کہ یہ مذہب واقع میں اس قابل ہے کہ اسے قبول کر لیا جائے۔مگر دوسری طرف وہ یہ امر بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ یہودی شریعت کو جس کو وہ رومن لاء کے مقابلہ میں بہت ادنیٰ سمجھتے تھے اپنے اندر جاری کریں۔پس وہ ایک عجیب مخمصے میں مبتلاء ہو گئے۔ایک طرف