خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 56

خلافة على منهاج النبوة ۵۶ جلد دوم مذہب کی دو قسمیں میرے نزدیک اس مسئلہ کو مجھنے سے پہلے یہ ام سمجھ لینا ضروری ہے کہ دنیا کے مذاہب دو قسم کے ہیں (۱) اوّل وہ مذاہب جو مذہب کا دائرہ عمل چند عبادات اور اذکار تک محدود رکھتے ہیں اور امور اعمالِ دُنیوی کو ایک علیحدہ امر قرار دیتے ہیں اور ان میں کوئی دخل نہیں دیتے۔وہ کہیں گے نماز یوں پڑھو، روزے یوں رکھو ، صدقہ و خیرات یوں کرو ، لوگوں کے حقوق یوں بجالا ؤ ، غرض عبادات اور اذکار کے متعلق وہ احکام بیان کریں گے مگر کوئی ایسا حکم نہیں دیں گے جس کا نظام کے ساتھ تعلق ہو یا اقتصادیات کے ساتھ تعلق ہو یا بین الا قوامی حالات کے ساتھ تعلق ہو یا لین دین کے معاملات کے ساتھ تعلق ہو یا ورثہ کے ساتھ تعلق ہو۔وہ ان امور کے متعلق قطعاً کوئی تعلیم نہیں دیں گے۔مسیحی مذہب میں شریعت کو اس قسم کے مذاہب میں سے ایک مسیحی مذہب ہے اور اس مذہب میں جو شریعت کو لعنت لعنت قرار دینے کا اصل باعث قرار دینے پر زور دیا گیا ہے اس کی وجہ بھی زیادہ تر یہی ہے کہ وہ افراد کے اعمال کو مذہب کی پابندیوں سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں مذہب کا کام صرف یہ ہے کہ وہ کہے تم نمازیں پڑھو تم روزہ رکھو، تم حج کرو، تم زکوۃ دو، تم عیسی کو خدا سمجھو۔اسے اس بات سے کیا واسطہ ہے کہ قتل ، فساد، چوریوں اور ڈاکوں کے متعلق کیا احکام ہیں یا یہ کہ تو میں آپس میں کس طرح معاہدات کریں ، یا اقتصاد کو کس طرح کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔وہ کہتے ہیں شریعت کا اِن امور سے کوئی واسطہ نہیں۔اگر لڑکوں اور لڑکیوں کو ورثہ میں سے حصہ دینے کا سوال ہو تو وہ کہہ دیں گے کہ اس میں شریعت کا کیا دخل ہے یہ ہمارے ملک کی پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ جس امر میں قوم کا فائدہ دیکھے اسے بطور قانون نافذ کر دے۔اسی طرح وہ کہتے ہیں اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ ہم سود لیں گے چاہے روپیہ کی صورت میں لیں اور چاہے جنس کی صورت میں ، تو مذہب کو کیا حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ روپیہ کے بدلہ میں سودی روپیہ لینا نا جائز ہے۔غرض وہ مذہب کے اُن احکام سے جو نظام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں شدید نفرت کرتے ہیں اسی لئے انہوں نے شریعت کو لعنت قرار