خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 55

خلافة على منهاج النبوة ۵۵ جلد دوم ضروریات کا جوحکومت کیلئے ضروری ہیں مثلاً میزانیہ وغیرہ۔پس معلوم ہوا کہ اُس وقت جو کچھ کیا جاتا تھا صرف وقتی مصالح کے ماتحت کیا جاتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ خلافت کے انکار خلافت کے انکار کا ایک خطرناک نتیجہ کرنے کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی حکومت مذہبی نہیں تھی اور خواہ اس خیال کو مسلمانوں کی مخالفت کے ڈر سے کیسے ہی نرم الفاظ میں بیان کیا جائے صرف خلفاء کے نظام سلطنت کو ہی مذہبی حیثیت سے نہیں گرانا پڑتا بلکہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے اس حصہ کے متعلق بھی جو امور سلطنت صلى الله کے انصرام کے ساتھ تعلق رکھتا تھا کہنا پڑتا ہے کہ وہ محض ایک دُنیوی کام تھا جسے وقتی ضرورتوں کے ماتحت آپ نے اختیار کیا ور نہ نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ کو مستی کرتے ہوئے نظامی حصہ آپ نے لوگوں کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے اور آپ کی طرف سے اس بات کی گھلی اجازت ہے کہ اپنی سہولت کے لئے جیسا نظام کوئی چاہے پسند کرے۔علی بن عبد الرزاق نے اس بات پر بھی بحث کی ہے چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ کو صیح معنوں میں حکومت حاصل ہوتی تو آپ ہر جگہ حج مقرر کرتے مگر آپ نے ہر جگہ حج مقرر نہیں کئے اسی طرح با قاعدہ میزانیہ وغیرہ بنائے جاتے مگر یہ چیزیں بھی آپ کے عہد میں ثابت نہیں۔اسی طرح اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر امور سلطنت کے انصرام میں کوئی حصہ لیا ہے تو وہ وقتی ضرورتوں کے ماتحت کیا ہے جیسے گھر میں کرسی نہیں ہوتی تو انسان فرش پر ہی بیٹھ جاتا ہے اسی طرح اُس وقت چونکہ کوئی حکومت نہیں تھی آپ نے عارضی انتظام قائم کرنے کیلئے بعض قوانین صادر کر دیئے۔پس آپ کا یہ کام ایک دنیوی کام تھا اس سے مذہبی رنگ میں کوئی سند نہیں لی جاسکتی۔غرض اس اصل کو تسلیم کر کے خلفاء کے نظام حکومت کو ہی مذہبی حیثیت سے نہیں گرانا پڑتا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کاموں کو بھی جو نظام سلطنت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں دُنیوی کام قرار دینا پڑتا ہے اور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ بعد کے لوگوں کیلئے سنت اور قابل عمل نہیں ہے۔اس تمہید کے بعد اب میں اصولی طور پر خلافت و نظام اسلامی کے مسئلہ کو لیتا ہوں۔