خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 473

خلافة على منهاج النبوة ۴۷۳ جلد دوم یہ نہیں کہے گا کہ اے میرے رب ! اے میرے رب ! تو نے مجھے کیوں پیاسا چھوڑ دیا بلکہ وہ یہ کہے گا کہ اے میرے رب ! اے میرے رب ! تو نے مجھے سیراب کر دیا یہاں تک کہ تیرے فیضان کا پانی میرے دل کے کناروں سے اُچھل کر بہنے لگا۔پس اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو اور ہمیشہ دین کے پھیلانے کے لئے قربانیاں کرتے چلے جاؤ۔مگر یا درکھو کہ قومی ترقی میں سب سے بڑی روک یہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ افراد کے دلوں میں روپیہ کا لالچ پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ طوعی قربانیوں سے محروم ہو جاتے ہیں تمہارا فرض ہے کہ تم ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو۔وہ تمہاری غیب سے مدد کرے گا اور تمہاری مشکلات کو دور کر دے گا بلکہ تمہارے لئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ سامان بھی کیا ہوا ہے کہ اُس نے ایک انجمن بنادی ہے جو تمام مبلغین کو با قاعدہ خرچ دیتی ہے مگر گزشتہ زمانوں میں جو مبلغین ہوا کرتے تھے اُن کو کوئی تنخواہ نہیں دیتا تھا بعض دفعہ ہندوستان میں ایران سے دو دوسو مبلغ آیا ہے مگر وہ سارے کے سارے اپنے اخراجات خود برداشت کرتے تھے اور کسی دوسرے سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے تھے۔پس اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت بجالا ؤ اور لالچ اور حرص کے جذبات سے بالا رہتے ہوئے ساری دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا بلند کرے کی کوشش کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت میں تحریر فرمایا ہے کہ :۔دو مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال جمع کیونکر ہوں گے اور ایسی جماعت کیونکر پیدا ہوگی جو ایمانداری کے جوش سے یہ مردانہ کام دکھلائے۔بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعد وہ لوگ جن کے سپر دایسے مال کئے جائیں وہ کثرتِ مال کو دیکھ کر ٹھو کر نہ کھاویں اور دنیا سے پیار نہ کریں۔سو میں دعا کرتا ہوں کہ ایسے امین ہمیشہ اس سلسلہ کو ہاتھ آتے رہیں جو خدا کے لئے کام کریں پس لالچ اور حرص کو کبھی اپنے قریب بھی مت آنے دو اور ہمیشہ احمدیت کو پھیلانے کی جد و جہد کرتے رہو۔