خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 454
خلافة على منهاج النبوة ۴۵۴ جلد دوم کا ہونا ایک انعام ہے پیشگوئی نہیں اگر پیشگوئی ہوتا تو حضرت امام حسنؓ کے بعد خلافت کا ختم ہونا نَعُوذُ بِاللهِ قرآن کریم کو جھوٹا قرار دیتا لیکن چونکہ قرآن کریم نے اس کو ایک مشروط انعام قرار دیا ہے۔اس لئے اب ہم یہ کہتے ہیں کہ چونکہ حضرت امام حسنؓ کے زمانہ میں عام مسلمان کامل مومن نہیں رہے تھے اور خلافت کے قائم رکھنے کے لئے صحیح کوشش انہوں نے چھوڑ دی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو واپس لے لیا اور باوجود خلافت کے ختم ہو جانے کے قرآن سچا رہا جھوٹا نہیں ہوا۔وہی صورت اب بھی ہوگی اگر جماعت احمد یہ خلافت کے ایمان پر قائم رہی اور اس کے قیام کے لئے صحیح جد و جہد کرتی رہی تو اس میں بھی قیامت تک خلافت قائم رہے گی۔جس طرح عیسائیوں میں پوپ کی شکل میں اب تک قائم ہے گو وہ بگڑ گئی ہے۔میں نے بتا دیا ہے کہ اس کے بگڑنے کا احمدیت پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔مگر بہر حال اس فساد سے اتنا پتہ لگ جاتا ہے کہ شیطان ابھی مایوس نہیں ہوا۔پہلے تو شیطان نے پیغامیوں کی جماعت بنائی لیکن بیالیس سال کے انتظار کے بعد اس باسی کڑھی میں پھر اُبال آیا اور وہ بھی لگے مولوی عبد المنان اور عبد الوہاب کی تائید میں مضمون لکھنے اور ان میں سے ایک شخص محمد حسن چیمہ نے بھی ایک مضمون شائع کیا ہے کہ ہمارا نظام اور ہما ر ا سٹیج اور ہماری جماعت تمہاری مدد کے لئے تیار ہے شاباش ہمت کر کے کھڑے رہو۔مرزا محمود سے دبنا نہیں۔اس کی خلافت کے پردے چاک کر کے رکھ دو ہماری مدد تمہارے ساتھ ہے۔کوئی اس سے پوچھے کہ تم نے مولوی محمد علی صاحب کو کیا مدد دے لی تھی۔آخر مولوی محمد علی صاحب بھی تو تمہارے لیڈر تھے خواجہ کمال الدین صاحب بھی لیڈر تھے اُن کی تم نے کیا مددکر لی تھی جو آج عبد المنان اور عبدالوہاب کی کر لو گے۔پس یہ باتیں محض ڈھکو سلے ہیں ان سے صرف ہم کو ہوشیار کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مطمئن نہ ہو جانا اور یہ نہ سمجھنا کہ خدا تعالیٰ چونکہ خلافت قائم کیا کرتا ہے اس لئے کوئی ڈر کی بات نہیں ہے تمہارے زمانہ میں بھی فتنے کھڑے ہو رہے ہیں اور اسلام کے ابتدائی زمانہ میں بھی فتنے کھڑے ہوئے تھے۔اس لئے خلافت کو ایسی طرز پر چلا ؤ جو زیادہ آسان ہو اور کوئی ایک دو لفنگے اُٹھ کر اور کسی کے ہاتھ پر بیعت کر کے یہ نہ کہہ دیں کہ چلو خلیفہ مقرر ہو گیا ہے۔پس اسلامی طریق پر جو کہ میں آگے