خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 453
خلافة على منهاج النبوة ۴۵۳ خلافت احمدیہ کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔جلد دوم آئندہ انتخاب خلافت چونکہ اس وقت حضرت خلیفہ اول کے خاندان میں سے بعض نے اور اُن کے دوستوں نے خلافت احمدیہ کا کے متعلق طریق کار سوال پھر اُٹھایا ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس مضمون کے متعلق پھر کچھ روشنی ڈالوں اور جماعت کے سامنے ایسی تجاویز پیش کروں جن سے خلافتِ احمد یہ شرارتوں سے محفوظ ہو جائے۔میں نے اس سے پہلے جماعت کے دوستوں کے مشورہ کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ خلیفہ وقت کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ کی مجلس شوری دوسرا خلیفہ چنے۔مگر موجودہ فتنہ نے بتا دیا ہے کہ یہ طریق درست نہیں کیونکہ بعض لوگوں نے یہ کہا کہ ہم خلیفہ ثانی کے مرنے کے بعد بیعت میاں عبدالمنان کی کریں گے اور کسی کی نہیں کریں گے۔اس سے پتہ لگا کہ ان لوگوں نے یہ سمجھا کہ صرف دو تین آدمی ہی اگر کسی کی بیعت کر لیں تو وہ خلیفہ ہو جاتا ہے اور پھر اس سے یہ بھی پتہ لگا کہ جماعت میں خلفشار پیدا ہو سکتا ہے۔چاہے وہ خلفشار پیدا کر نے والا غلام رسول نمبر ۳۵ جیسا آدمی ہی ہو اور خواہ وہ ڈاہڈا جیسا گمنام آدمی ہی ہو۔وہ دعوئی تو یہی کریں گے کہ خلیفہ چنا گیا ہے۔سو جماعت احمدیہ میں پریشانی پیدا ہوگی۔اس لئے وہ پرانا طریق جو طول عمل والا ہے میں اس کو منسوخ کرتا ہوں اور اس کی بجائے میں اس سے زیادہ تو قریبی طریقہ پیش کرتا ہوں۔بیشک ہمارا دعویٰ ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے مگر اس کے باوجو د تاریخ کی اس شہادت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خلیفے شہید بھی ہو سکتے ہیں۔جس طرح حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی شہید ہوئے اور خلافت ختم بھی کی جا سکتی ہے۔جس طرح حضرت حسنؓ کے بعد خلافت ختم ہو گئی۔جو آیت میں نے اس وقت پڑھی ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں خلافت قائم رکھنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ مشروط ہے کیونکہ مندرجہ بالا آیت میں یہی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خلافت پر ایمان لانے والوں اور اس کے قیام کیلئے مناسب حال عمل کرنے والے لوگوں سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ ان میں خلافت کو قائم رکھے گا۔پس خلافت