خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 452
خلافة على منهاج النبوة ۴۵۲ قدرت ثانیہ سے مراد خلافت ہے جلد دوم یہ جو میں نے قدرت ثانیہ کے معنی خلافت کے کئے ہیں یہ ہمارے ہی نہیں بلکہ غیر مبائعین نے بھی اس کو تسلیم کیا ہوا ہے چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب لکھتے ہیں :۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیۃ کے مطابق حسب مشورہ معتمدین صدر انجمن احمد یہ موجود قادیان و اقرباء حضرت مسیح موعود به اجازت حضرت (اماں جان ) گل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اس وقت بارہ سوتھی والا مناقب حضرت حاجی الحرمین شریفین جناب حکیم نورالدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔۔۔یہ خطوط بطور اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے“۔یہ خط ہے جو انہوں نے شائع کیا۔اس میں مولوی محمد علی صاحب ، شیخ رحمت اللہ صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب وغیرہ کا بھی انہوں نے ذکر کیا ہے کہ معتمدین میں سے وہ اس موقع پر موجود تھے اور انہوں نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت کی۔سوان لوگوں نے اس زمانہ میں یہ تسلیم کر لیا کہ یہ جو قدرت ثانیہ کی پیش گوئی تھی یہ خلافت کے متعلق تھی کیونکہ الوصیۃ میں سوائے اس کے اور کوئی ذکر نہیں کہ تم قدرت ثانیہ کے لئے دعائیں کرتے رہو اور خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ مطابق حکم الوصیۃ ہم نے بیعت کی۔پس خواجہ صاحب کا اپنا اقرار موجود ہے کہ الوصیۃ میں جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ خلافت کے متعلق تھی اور ” قدرتِ ثانیہ سے مراد خلافت ہی ہے۔پس حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر خواجہ کمال الدین صاحب ، مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں کا بیعت کرنا اور اسی طرح میرا اور تمام خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیعت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام جماعت احمدیہ نے بالا تفاق خلافتِ احمدیہ کا اقرار کر لیا۔پھر حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول کے تمام خاندان اور جماعت احمدیہ کے ننانوے فیصدی افراد کا میرے ہاتھ پر بیعت کر لینا اس بات کا مزید ثبوت ہوا کہ جماعت احمد یہ اس بات پر متفق ہے کہ