خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 423
خلافة على منهاج النبوة ۴۲۳ جلد دوم تیرے سپرد تینوں ! دیں کے قمر بنانا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي مولوی عبد الوہاب کے خیال میں رُشد اور ہدایت اور دین اور فیض آسمانی اور دین کا قمر ہونا یہ سب دنیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو دنیائو جبھی مگر حضرت خلیفہ اوّل کو جو ان کے غلام تھے دین سوجھا۔پھر مولوی عبد الوہاب کا یہ کہنا کہ :۔حضور کی اولاد دنیا کے پیچھے لگ کر پریشانیوں اور تکلیفوں میں مبتلا ہے کیونکہ دنیا کے پیچھے لگ کر انسان سکونِ قلب حاصل نہیں کر سکتا“۔یہ بھی ان کے خاندان کے نظریہ کی رُو سے غلط ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ مولوی عبدالمنان آخری وقت میں جاتے ہوئے ادھر سلسلہ کا روپیہ نا جائز طور پر استعمال کر رہے تھے اور اُدھر دوسرے احمدیوں سے روپیہ منگوا رہے تھے چنانچہ تحریک جدید اور اور مینٹل کارپوریشن کے روپیہ میں انہوں نے جو نا جائز تصرف کیا اس کے متعلق چوہدری احمد جان وکیل المال تحریک جدید کی شہادت ہے کہ :۔” میاں عبدالمنان صاحب عمر جو تحریک جدید میں نائب وکیل التصنیف اور اور سینٹیل کارپوریشن کے چیئر مین تھے گزشتہ سال مجلس تحریک جدید نے سات رہائشی کوارٹروں اور مسجد کی تعمیر کا کام ان کے سپر د کیا اور ان تعمیرات کے لئے ستائیس ہزار روپے کا بجٹ منظور کیا۔جس میں سے میاں عبدالمنان صاحب نے ۲۶۹۹۸ روپے خزانہ تحریک جدید سے برآمد کرائے۔اس میں سے ۲۳۸۴۳ روپے کوارٹروں کی تعمیر پر خرچ ہوئے باقی رقم انہوں نے نہ تحریک جدید کو واپس کی نہ مسجد بنوائی بلکہ کم و بیش ۳۷۰۰ روپے بصورت سامان تعمیر وغیرہ اور نیٹل کمپنی کی طرف منتقل کئے اور وہاں سے اپنی ذاتی دُکانوں کی تعمیر پر خرچ کر لئے۔اور نیٹل کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کمپنی کی دُکانوں اور پریس کی عمارت بنانے کیلئے ساڑھے بارہ ہزار روپے تک خرچ کرنے کی میاں عبدالمنان کو منظوری دی انہوں نے کمپنی کی عمارت کے ساتھ ہی اپنی سات عدد د کانات بھی تعمیر کیں اور بورڈ کی اجازت کے بغیر اپنی ذاتی اور کمپنی کی تعمیرات کا نہ صرف حساب اکٹھا رکھا بلکہ ۶۲۳ روپے کی