خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 409

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۹ جلد دوم کہتا ہوں کہ مجھے یا د آ گیا اور میرے حافظہ نے کام دیا کہ اُن کا نام مولوی محمد ذکریا تھا اور مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ مولوی حبیب الرحمن صاحب احراری لیڈر کے والد ہیں۔۱۹۴۶ء میں محمد عبد اللہ صاحب ظفر وال ضلع سیالکوٹ کی گواہی کے مطابق میاں عبدالمنان صاحب نے مجھ پر اپنی جائیداد غصب کرنے کا الزام لگا یا چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔”ہمارے ایک معزز غیر احمدی دوست نے ( جو علاقہ مجسٹریٹ کے ریڈر ہیں ) مجھے بتایا که مولوی منان میرے واقف ہیں۔پارٹیشن سے پہلے جب کبھی میں ان کے ہاں جایا کرتا وہ حضور کے خلاف سخت غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہوئے کہتے کہ دیکھو جی ! کمائی ہمارے باپ کی اور کھا یہ رہے ہیں ( گویا مسیح موعود کی کمائی ہی نہیں۔کمائی حضرت خلیفہ اول کی تھی۔اگر جسمانی لو تب بھی حضرت خلیفہ اول کی کمائی ہم سے ہزارواں حصہ بھی نہیں تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ورثہ میں پانچ گاؤں اور ایک شہر قادیان کا ملا تھا اور خلیفہ اول کو ان کے باپ کی طرف سے ایک کچا کوٹھا بھی نہیں ملا تھا ) ہمیں کوئی پوچھتا بھی نہیں اور ان کے محل بن رہے ہیں۔“ ۱۹۵۰ء میں میاں عبد السلام نے یہ کہا کہ عبد الباسط انکے بڑے بیٹے کو زہر دیا گیا ہے وہ لائلپور میں پڑھتا تھا اور میں نے جماعت لائل پور سے گواہی منگوائی ہے وہ کہتے ہیں کہ میونسپل کمیٹی میں ان کا ریکارڈ موجود ہے اور میونسپل کمیٹی کی سند موجود ہے کہ اس نے خود کشی کی تھی بلکہ وہ کہتے ہیں کہ بعد میں جب ہم نے جنازہ نہ پڑھا کیونکہ خودکشی کرنے والے کا جنازہ جائز نہیں ہوتا تو میاں عبدالمنان نے آکر کہا کہ عبد الباسط نے خود کشی نہیں کی بلکہ کسی نے اس کو زہر دے دیا ہے اور اس کی موت میں مختلف لوگوں کا ہاتھ ہے اور اس کے بعد میاں عبد السلام اور عبد المنان دونوں نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح یہ بات ثابت ہو جائے کہ اس نے خود کشی نہیں کی بلکہ اُسے زہر دیا گیا ہے۔چنانچہ چوہدری رشید احمد صاحب بٹ جو سکھر میں ہیں اور مولوی عبد السلام صاحب کی زمینوں کے قریب رہتے ہیں اُن کی بھی یہی گواہی ہے وہ لکھتے ہیں :۔” میری مولوی عبد السلام مرحوم سے پہلی ملاقات جنوری ۱۹۵۰ء میں بمقام کنڈیارو