خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 408
خلافة على منهاج النبوة ۴۰۸ جلد دوم سے میری بے تکلفی تھی آکر پاس ہی بیٹھ گئے اُن سفید ریش مولوی صاحب نے جو نہیں جانتے تھے کہ میں احمدی ہوں۔( مگر منظور صاحب کو میرا اچھی طرح علم تھا ) مولوی عبدالوہاب صاحب کا ان کے چلے جانے کے بعد ذکر شروع کر دیا کہ یہ فلاں آدمی ہیں اور یہ ہمیں خبریں دیتے ہیں اور ہمیں انہی لوگوں سے مرزائیوں کے راز معلوم ہوتے ہیں اور کہا کہ ( مجھے صحیح یا دنہیں آج یا کل) یہ چوہدری افضل حق کے پاس بھی آئے تھے۔(اُن دنوں چوہدری افضل حق صاحب شملہ میں تھے ) اور بھی گفتگو ہوئی۔مگر اب اتنا عرصہ گزرنے کے بعد یاد نہیں مگر وہ الفاظ یا مفہوم جن سے مولوی صاحب کا احراریوں سے تعلق ظاہر ہوتا تھا اور پھر خلیفہ اول کی اولاد کس طرح بھول سکتے ہیں سخت صدمہ ہوا۔میں نے کسی رنگ میں بعد میں مولوی صاحب سے خود چوہدری افضل حق صاحب سے ملاقات کی تصدیق بھی کروالی۔پیغامیوں سے ان کے تعلقات کا کئی دفعہ سن چکا تھا مگر یہ الفاظ رنج دہ تھے۔منظور صاحب نے میرے ساتھ تعلقات کی وجہ سے ان سفید ریش مولوی صاحب کو یہ نہ بتایا کہ یہ احمدی ہیں بلکہ مسکراتے رہے اور انہیں نہ ٹو کا۔جب وہ مولوی صاحب چلے گئے تو مجھے بتایا کہ یہ مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی احراری لیڈر کے والد ہیں۔بعد میں دوسروں سے بھی تصدیق ہوگئی کہ یہ مولوی حبیب الرحمن صاحب کے والد ہیں کیونکہ پھر کئی دفعہ ملنے کا موقع ملا۔میں ان الفاظ پر جو مولوی حبیب الرحمن صاحب کے والد نے کہے تھے حرف بحرف حلف نہیں اُٹھا سکتا مگر میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مولوی حبیب الرحمن صاحب کے والد صاحب نے جن کا نام مجھے یاد نہیں اس مفہوم کے الفاظ کہے تھے کہ مولوی عبد الوہاب صاحب احراریوں کے مخبر ہیں اور آج یا کل بھی (شملہ میں ) چوہدری افضل حق صاحب کے پاس آئے تھے۔۲۲ پراچہ صاحب نے جلسہ سالانہ پر شہادت دیتے ہوئے بتایا کہ جب الفضل میں میرا یہ خط شائع ہوا تو اُس وقت مجھے اُن سفید ریش معمر مولوی صاحب کا جو وہاں بیٹھے ہوئے تھے نام یاد نہیں تھا اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان کا نام مولوی محمد ذکریا تھا اور میں خود بھی قسم کھا کے