خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 396

خلافة على منهاج النبوة ۳۹۶ جلد دوم سازش کی اس طریق پر کہ اماں جی مرحومہ کے گھر میں حضور کی دعوت کی جائے اور دعوت کا اہتمام لاہوری معاندین کے ہاتھ میں ہو۔مگر ایک بچے نے جو اُن کی سرگوشیاں سن رہا تھا 66 ساری سکیم فاش کر دی۔“ 1919ء۔۱۹۱۸ء میں جیسا کہ میاں گواہی فضل محمد خان صاحب شملوی فضل محمد خان صاحب شملوی کی گواہی سے ظاہر ہے میاں عبد السلام صاحب مولوی محمد علی صاحب سے شملہ میں ملے اور اُن نذرانہ وصول کیا چنانچہ وہ لکھتے ہیں :۔ނ ۱۹۱۵ء کے قریب یا دو تین سال بعد میاں عبدالسلام صاحب عمر جبکہ وہ صرف ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے حضرت مولوی غلام بنی صاحب کے ساتھ جبکہ وہ گرمی کی چھٹیوں میں تفریح کیلئے ٹوٹی کنڈی میں آکر ٹھہرے۔اس دوران میں مولوی عبد السلام صاحب غیر مبائعین سے بھی بلا تکلف مل لیتے تھے۔مجھے یہ بہت بُر ا معلوم ہوتا تھا میرے دل میں صاحبزادہ ہونے کے سبب سے جو احترام تھا کم ہو گیا۔پھر اسی عید کے موقع پر مجھے یاد نہیں کہ بڑی تھی یا چھوٹی میاں عبدالسلام صاحب مولوی محمد علی صاحب سے عید کا نذرانہ لے آئے اور ان کی گود میں بیٹھ آئے۔جب اس روئیداد کا علم ہوا تو خان صاحب برکت علی صاحب نے جو اُس وقت جماعت کے سیکرٹری تھے اُن کو تنبیہ کی کہ وہ مخالفین کے پاس کیوں گئے ایسا نہ چاہیے تھا تو مولوی عبد السلام صاحب بجائے نصیحت حاصل کرنے کے بہت بگڑے اور کہا کہ آپ کو ہمارے کسی قسم کے تعلقات پر گرفت کرنے کا حق نہیں ( یعنی ہم چاہے احراریوں سے ملیں چاہے پیغامیوں سے ملیں تم کون ہو تے ہو جو ہمیں روکو ) مولوی عمرالدین صاحب بڑی تجسس کے انسان تھے۔مولوی صاحب مولوی عبد السلام صاحب کی بہت دلجوئی کرتے۔اسی دوران میں مولوی عبد السلام صاحب عمر نے مولوی عمر الدین سے کسی گفتگو کے دوران میں یہ کہا کہ میں نے خلیفتہ المسیح الثانی کے ( نَعُوذُ بِاللهِ ) قابلِ اعتراض دستی خطوط اُڑائے ہوئے ہیں جو میرے پاس محفوظ ہیں ( اب اگر اس خاندان میں تخم دیانت باقی ہے تو وہ میرے خط شائع کرے ورنہ میں کہتا ہوں کہ اگر اس خاندان کے افراد نے یہ بات کہی ہے