خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 24

خلافة على منهاج النبوة ۲۴ جلد دوم خلیفہ کی ذات پر حملہ لعنت الہی کا مستحق بناتا ہے مورخہ ۲۶ / جون ۱۹۳۷ء کو بمقام بیت اقصی قادیان سید نا المصلح الموعود نے خطاب فرمایا جس میں میاں فخر الدین صاحب ملتانی کی فتنہ پردازیوں اور جماعت کے خلاف بغض و کینہ کی تفصیلات سے احباب جماعت کو آگاہ فرمایا اور اسے اخراج اور مقاطعہ کی سزا سنائی۔حضور نے خلافت کی حفاظت اور اس کی عزت اور وقار کی اہمیت بیان کرتے ہوئے جماعت کو نصیت فرمائی کہ:۔قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ جب رسول یا اس کا خلیفہ فیصلہ کرے تو اسے ٹھیک مان لیا جائے۔ہو سکتا ہے کہ خلیفہ غلط فیصلہ کر دے مگر پھر بھی اسے رغبت دل کے ساتھ تسلیم کرنا ضروری ہے۔ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو سزا دینا چا ہے اور اس لئے وہ سچا ہونے کے با و جو دمقدمہ میں جھوٹا ثابت ہو جائے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ یہ آیت صرف آنحضرت علی کیلئے ہے کیونکہ وہ نبی تھے۔مگر اس معاملہ میں نبی اور خلیفہ میں کوئی فرق نہیں کیونکہ نبی اور خلیفہ میں اس جگہ فرق ہوتا ہے جہاں نبوت کا مخصوص سوال ہو۔اور مقدمات میں نبوت کے مقام کو کوئی دخل نہیں کیونکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں مقدمات کے فیصلہ کرنے میں غلطی کر سکتا ہوں۔اگر نبی کے فیصلے منصب نبوت کے ماتحت ہوتے تو وہ ان میں کبھی غلطی نہ کر سکتا۔حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک مقدمہ کا فیصلہ ایک شخص کے حق میں کر دیا تو دوسرے نے کہا کہ میں اس فیصلے کو تو مانتا ہوں مگر یہ ہے غلط۔اس پر آپ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ کوئی لسان شخص مجھے دھوکا دیکر مجھ سے اپنے حق میں فیصلہ کر والے مگر میرا فیصلہ اسے خدا تعالیٰ کی گرفت سے نہیں بچا سکے گا لے گویا آپ تسلیم کرتے