خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 380
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۰ جلد دوم روح تھی جو کہ آدم کی مخالفت کی وجہ تھی اور جو رقابت کہ خلافت احمدیہ کی مخالفت کی وجہ بنی۔بظاہر اسے دینی سوال بنا دیا گیا ہے لیکن اس کا باعث در حقیقت رقابت اور بغض تھا۔اور یہ واقعہ اسی طرح کا ہے جس طرح ابلیس نے حوا سے کہا تھا کہ اگر تم شجرہ ممنوعہ کو چکھو گے تو تمہارے تقویٰ کی روح بڑی بلند ہو جائے گی اور تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے، سے لیکن حقیقتا اس کی غرض یہ تھی کہ آدم اور حوا کو جنت سے نکالا جائے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت میں اس رقابت نے دوسری دفعہ جو صورت اختیار کی وہ مندرجہ ذیل ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آخری عمر میں جب ان کا پلوٹھا بیٹا اسماعیل ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوا اور اس کے بعد ان کی پہلی بیوی سارہ کے بطن سے اسحاق پیدا ہوا تو سارہ چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ماموں کی بیٹی تھیں انکو خیال تھا کہ میں خاندانی ہوں اور ہاجرہ باہر کی ہے اس لئے وہ اپنا درجہ بڑا سمجھتی تھیں۔اتفاقاً حضرت اسماعیل جو بچے تھے حضرت اسحاق کی کسی حرکت یا کسی اور وجہ سے قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔سارہ نے سمجھا کہ اس نے میری اور میرے بچہ کی حقارت کی ہے اور قہقہہ مارا ہے۔شاید یہ بھی خیال کیا کہ یہ اس بات پر خوش ہے کہ یہ بڑا بیٹا ہے اور یہ وارث ہو گا اور اسحاق وارث نہیں ہوگا۔تب انہوں نے غصہ میں آکر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ یہ لڑ کا مجھ پر قہقہے مارتا ہے اس کو اور اس کی ماں کو گھر سے نکال دو کیونکہ میں برداشت نہیں کر سکتی کہ میرے بیٹے کے ساتھ یہ تیرا وارث ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہلے تو اس بات کو بُرا منایا اور اس کام سے رُکے مگر خدا تعالیٰ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ظاہر کرنا چاہتا تھا اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وحی کی کہ جو کچھ تیری بیوی سارہ کہتی ہے وہی کرے چنانچہ خدا کے حکم کے ماتحت حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ اور اسماعیل کو وادی حرم میں چھوڑ گئے اور سارہ اور اسحاق کے سپر د کنعان کا علاقہ کر دیا گیا اور اسماعیل کی نسل نے مکہ میں بڑھنا شروع کیا اور و ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھرانے میں پیدا ہو گئے مگر یہ رقابت یہیں ختم نہیں ہوگئی بلکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش پر ان کی ماں سے