خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 379

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم اس نے وہ تقریر سنائی پھر مجھے یاد آیا کہ میں نے اس کتاب کو خوب اچھی طرح غور سے پڑھا ہوا ہے۔حضرت آدم کے بعد پھر حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شیطان کا حملہ نئے دور روحانی کے آدم حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے جن سے آگے اسحاقی اور اسماعیلی دور چلنا تھا۔اسحاق کی نسل سے موسوی سلسلہ کی بنیاد پڑنی تھی اور اسماعیل کی نسل سے محمد ی سلسلہ کی بنیاد پڑنی تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی پھر وہی آدم والی حکایت دُہرائی گئی چنانچہ شیطان نے پھر ایک نئے حملہ کی تجویز کی۔یہودی کتب میں لکھا ہے اور اشارہ قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد فوت ہو گئے اور ان کے چچا جو ایک بت خانہ کے مجاور تھے ان کے متولی بنے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے بچپن سے ہی تو حید پر قائم کر دیا تھا جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچپن سے ہی تو حید پر قائم کر دیا تھا۔جب انہوں نے بتوں کی مخالفت شروع کی تو چچا کے بیٹوں نے اپنے باپ کے پاس ان کی شکایت کر دی اور لوگوں کو بھی یہ بتایا کہ یہ لڑکا بتوں کی حقارت کرتا ہے۔چنانچہ لوگ جوق در جوق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بحث کے لئے آنے شروع ہوئے اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو شرمندہ کرنے کیلئے ان کے بعض بتوں کو توڑ دیا تو انہوں نے اس حسد کی بناء پر جس کی وجہ سے ابلیس نے آدم کا مقابلہ کیا تھا میں شور مچا دیا کہ ابراہیم کو لاؤ اور اس کو آگ میں جلا دو۔جس کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے یہ ہجرت ان کو مہنگی نہیں پڑی بلکہ مفید پڑی۔جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت اُن کو مہنگی نہیں پڑی بلکہ مفید پڑی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہجرت کے بعد کنعان اور حجاز کا ملک بخشا گیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکالے جانے کے بعد پہلے مدینہ اور پھر ساری دُنیا ملی۔پس ان دونوں بزرگوں یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کیوجہ بھی وہی رقابت کی