خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 347

خلافة على منهاج النبوة۔۳۴۷ جلد دوم اپنی زندگی کے آخری ایام میں انہیں وصیت کرنی پڑی کہ فلاں فلاں شخص ان کے جنازے پر نہ آئے۔ان کی اپنی تحریر موجود ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مولوی صدرالدین صاحب، شیخ عبد الرحمن صاحب مصری اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب میرے خلاف پرو پیگنڈا میں اپنی پوری قوت خرچ کر رہے ہیں۔اور انہوں نے تنکے کو پہاڑ بنا کر جماعت میں فتہ پیدا کرنا شروع کیا ہوا ہے اور ان لوگوں نے مولوی محمد علی صاحب پر طرح طرح کے الزامات لگائے یہاں تک کیا کہ آپ نے احمدیت سے انکار کر دیا ہے اور انجمن کا مال غصب کر لیا ہے۔اب بتا ؤ جب وہ شخص جو اس جماعت کا بانی تھا اسے یہ کہنا پڑا کہ جماعت کے بڑے بڑے آدمی مجھ پر الزام لگاتے ہیں اور مجھے مرتد اور جماعت کا مال غصب کرنے والا قرار دیتے ہیں تو اگر وہاں دودھ پینے والے چھو کرے چلے جاتے تو انہیں کیا ملتا۔زیادہ سے زیادہ یہی ہوسکتا تھا کہ انہیں پانچ پانچ روپے کے وظیفے دے کر کسی سکول میں داخل کر دیا جا تا مگر ہم نے تو ان کی تعلیم پر بڑا روپیہ خرچ کیا اور اس قابل بنایا کہ یہ بڑے آدمی کہلا سکیں لیکن انہوں نے یہ کیا کہ جس جماعت نے انہیں پڑھایا تھا اُسی کو تباہ کرنے کیلئے حملہ کر دیا۔اس سے بڑھ کر اور کیا قساوت قلبی ہوگی کہ جن غریبوں نے انہیں پیسے دے کر اس مقام پر پہنچایا یہ لوگ اُنہی کو تباہ کر نیکی کوشش میں لگ جائیں۔جماعت میں ایسے ایسے غریب ہیں کہ جن کی غربت کا کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا مگر وہ لوگ چندہ دیتے ہیں۔ایک دفعہ قادیان میں ایک غریب احمدی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ امراء کے ہاں دعوتیں کھاتے ہیں ایک دفعہ آپ میرے گھر بھی تشریف لائیں اور میری دعوت کو قبول فرمائیں۔میں نے کہا تم بہت غریب ہو میں نہیں چاہتا کہ دعوت کی وجہ سے تم پر کوئی بوجھ پڑے۔اس نے کہا میں غریب ہوں تو کیا ہوا آپ میری دعوت ضرور قبول کریں۔میں نے پھر بھی انکار کیا مگر وہ میرے پیچھے پڑ گیا۔چنانچہ ایک دن میں اس کے گھر گیا تا کہ اُس کی دلجوئی ہو جائے۔مجھے یاد نہیں اس نے چائے کی دعوت کی تھی یا کھانا کھلایا تھا مگر جب میں اس کے گھر سے نکلا تو گلی میں ایک احمدی دوست عبد العزیز صاحب کھڑے تھے وہ پسرور ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے اور مخلص احمدی تھے لیکن انہیں