خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 336

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۶ جلد دوم چالیس سال سے اوپر کے مردوں کی جماعت کا نام انصار اللہ رکھا گیا گویا جس طرح قرآن کریم میں دو گروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے اسی طرح جماعت احمدیہ میں بھی دو زمانوں میں دو جماعتوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔پہلے جن لوگوں کا نام انصا انصار اللہ رکھا گیا ان میں سے اکثر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ تھے۔کیونکہ یہ جماعت ۱۴۔۱۹۱۳ء میں بنائی گئی تھی اور اُس وقت اکثر صحابہ زندہ تھے اور اس جماعت میں بھی اکثر وہی شامل تھے۔اسی طرح قرآن کریم میں بھی جن انصار کا ذکر آتا ہے ان میں زیادہ تر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ شامل تھے۔دوسری دفعہ جماعت احمدیہ میں آپ لوگوں کا نام اسی طرح انصار اللہ رکھا گیا ہے جس طرح قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ادنی نبی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا ہے۔آپ لوگوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کم ہیں اور زیادہ حصہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے میری بیعت کی ہے اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام والی بات بھی پوری ہو گئی یعنی جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا تھا اسی طرح مثیل مسیح موعود کے ساتھیوں کو بھی انصار اللہ کہا گیا ہے گویا قرآنی تاریخ میں بھی دو زمانوں میں دو گروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا اور جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی دو گروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اب بھی زندہ ہیں مگر اب ان کی تعداد بہت تھوڑی رہ گئی ہے۔صحابی اُس شخص کو بھی کہتے ہیں جو نبی کی زندگی میں اس کے سامنے آگیا ہو۔گویا زیادہ تر یہ لفظ انہی لوگوں پر اطلاق پاتا ہے جنہوں نے نبی کی صحبت سے فائدہ اُٹھایا ہو اور اُس کی باتیں سنی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے ہیں اس لئے وہ شخص بھی آپ کا صحابی کہلا سکتا ہے جس نے خواہ آپ کی صحبت سے فائدہ نہ اُٹھایا ہولیکن آپ کے زمانہ میں پیدا ہوا ہو اور اُس کا باپ اُسے اُٹھا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے سامنے لے گیا ہولیکن یہ ادنی درجہ کا صحابی ہوگا۔اعلیٰ درجہ کا صحابی وہی ہے جس نے آپ کی صحبت سے فائدہ اُٹھایا اور آپ کی باتیں سنیں۔اور جن لوگوں نے آپ کی صحبت سے فائدہ