خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 335

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۵ جلد دوم صحابہ کرام کی فدائیت اور اُن کا اخلاص و ایثار ۲۶ اکتوبر ۱۹۵۶ء کو مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع منعقدہ ربوہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حسب ذیل افتتاحی تقریر فرمائی۔تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی ↓ تلاوت فرمائی۔يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا انْصَارَ اللهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِينَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللهِ ، قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ الله اس کے بعد فر ما یا :۔آپ لوگوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے یہ نام قرآنی تاریخ میں بھی دو دفعہ آیا ہے اور احمدیت کی تاریخ میں بھی دو دفعہ آیا ہے۔قرآنی تاریخ میں ایک دفعہ تو حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں چنانچہ جب آپ نے فرمایا من انصاري إلی اللہ تو آپ کے حواریوں نے کہا نَحْنُ انْصَارُ الله کہ ہم اللہ تعالیٰ کے انصار ہیں۔دوسری جگہ اللہ تعالی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ مہاجرین کا تھا اور ایک گروہ انصار کا تھا۔گویا یہ نام قرآنی تاریخ میں دو دفعہ آیا ہے۔ایک جگہ پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق آیا ہے اور ایک جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ایک حصہ کو انصار کہا گیا ہے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی انصار اللہ کا دو جگہ ذکر آتا ہے۔ایک دفعہ جب حضرت خلیفہ اول کی پیغامیوں نے مخالفت کی تو میں نے انصار اللہ کی ایک جماعت قائم کی۔اور دوسری دفعہ جب جماعت کے بچوں ، نوجوانوں ، بوڑھوں اور عورتوں کی تنظیم کی گئی تو