خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 327
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۷ جلد دوم لوگوں کو بھی دیکھا جو باغی تھے۔یہ خواب بھی بڑے شاندار طور پر پوری ہوئی۔چنانچہ اللہ رکھا سیالکوٹ کا ہی رہنے والا ہے جب میں نے اس کے متعلق الفضل میں مضمون لکھا تو خود اس کے حقیقی بھائیوں نے مجھے لکھا کہ پہلے تو ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید اس پر ظلم ہو رہا ہے لیکن اب میں پتہ لگ گیا ہے کہ وہ پیغامی ہے۔اس نے ہمیں جو خطوط لکھے ہیں وہ پیغامیوں کے سے لکھے ہیں پس ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ہم خلافت سے وفا داری کا عہد کرتے ہیں۔اب دیکھ لو۱۹۳۴ء میں مجھے اس فتنہ کا خیال کیسے آسکتا تھا۔پھر ۱۹۵۰ء والی خواب بھی مجھے یاد نہیں تھی۔۱۹۵۰ء میں میں جب سندھ سے کوئٹہ گیا تو اپنی ایک لڑکی کو جو بیارتھی ساتھ لے گیا۔اس نے اب مجھے یاد کرایا کہ ۱۹۵۰ء میں آپ نے ایک خواب دیکھی تھی جس میں یہ ذکر تھا کہ آپ کے رشتہ داروں میں سے کسی نے خلافت کے خلاف فتنہ اُٹھایا ہے میں نے مولوی محمد یعقوب صاحب کو وہ خواب تلاش کرنے پر مقرر کیا چنانچہ وہ الفضل سے خواب تلاش کر کے لے آئے۔اب دیکھو خدا تعالیٰ نے کتنی دیر پہلے مجھے اس فتنہ سے آگاہ کر دیا تھا اور پھر کس طرح یہ خواب حیرت انگیز رنگ میں پورا ہوا۔ہماری جماعت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ منافقت کی جڑ کو کاٹنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔اگر اس کی جڑ کو نہ کاٹا جائے تو وعدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وعملوا الصلحت ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهِيمُ میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جماعت سے جو وعدہ فرمایا ہے اس کے پورا ہونے میں شیطان کئی قسم کی رکاوٹیں حائل کر سکتا ہے۔دیکھو خدا تعالیٰ کا یہ کتنا شاندار وعدہ تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پورا ہوا۔حضرت ابو بکر کی خلافت صرف اڑھائی سال کی تھی لیکن اس عرصہ میں خدا تعالیٰ نے جو تائید و نصرت کے نظارے دکھائے وہ کتنے ایمان افزا تھے۔حضرت ابو بکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنی غلام تھے لیکن انہوں نے اپنے زمانہ خلافت میں رومی فوجوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔آخر اڑھائی سال کے عرصہ میں لاکھوں مسلمان تو نہیں ہو گئے تھے۔اُس وقت قریباً قریباً وہی مسلمان تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہے تھے لیکن خلافت کی برکات